دارالعلوم کے انتظامی شعبہ جات

دفتر اہتمام

ادارہٴ اہتمام دارالعلوم کا مرکزو محور اور آئینی طور پر مرکزی نقطہ ہے جس کے ارد گرد دارالعلوم کی اندرونی وبیرونی سرگرمیاں گردش کرتی ہیں۔دارالعلوم کے تمام شعبوں کا نظم و نسق ، ان کی نگرانی اور حسابات کی جانچ پڑتال اسی شعبہ سے متعلق ہے۔ مجلس شوری اور مجلس عاملہ کی تجاویز اور فیصلے ادارہٴ اہتمام ہی کے ذریعہ نافذ کیے جاتے ہیں۔ دارالعلوم کے تمام شعبوں اور دفاتر کی داخلی نگرانی کے علاوہ دارالعلوم کے ملک سے خارجی تعلقات بھی اسی ادارہ کے واسطے سے قائم ہیں۔ دارالعلوم کے اندرونی نظم و نسق اور ترقی و تبدیلی کے متعلق تمام فیصلے اور احکامات دفتر اہتمام کے ذریعہ جاری کیے جاتے ہیں۔

مہتمم دارالعلوم ہی دارالعلوم کے تمام امور کے سلسلے میں براہ راست مجلس شوری کو جواب دہ ہوتے ہیں۔ ادارہٴ اہتمام خاص اہمیت کا حامل ہے؛ اس لیے اہتمام کے اہم منصب کے لیے ہمیشہ یہ اصول مد نظر رہا ہے کہ اس کے لیے ایسی شخصیات کا انتخاب کیا جاتا ہے جو علم و فضل ، دیانت و تقوی اور انتظامی امور میں خاص صلاحیتوں کی مالک ہونے کے علاوہ ملک میں خاص اثر اور وجاہت رکھتی ہوں۔

دفتر تعلیمات

ایک تعلیمی ادارے کی حیثیت سے دارالعلوم کا بنیادی نقطہٴ نظر اور اس کا اساسی مقصد تعلیم و تدریس ہے۔ اس لیے دارالعلوم کی تاسیس کے ساتھ ہی شعبہٴ تعلیمات کا آغاز بھی سمجھنا چاہیے۔ اس وقت یہ شعبہ اپنے متعدد ذیلی شعبوں کے ساتھ کافی وسیع ہوچکا ہے۔ یہ شعبہ قدرتی طور پر دفتر اہتمام کے بعد کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ تمام تعلیمی شعبے اسی کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔

شعبہٴ تعلیمات کے فرائض میں تعلیمی شعبہ جات کی نگرانی کے علاوہ تقسیم اسباق، امتحانات کا نظم، طلبہ کی ترقی و تنزلی اور داخلوں سے متعلق تمام کارروائی، حاضری کا اندراج، طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ کی حفاظت، سندات کا اجراء اور مجلس تعلیمی کی تجاویز کا نفاذ وغیرہ امور شامل ہیں۔

شعبہٴ محاسبی

یہ شعبہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔ قیام دارالعلوم کے دوسرے سال ہی اس کی تشکیل عمل میں آگئی تھی۔ یہ شعبہ دفتر اہتمام سے ملحق گیٹ کے اوپر واقع ہے۔ مالی لین دین کے لحاظ سے اس شعبہ سے دارالعلوم کا ہر شعبہ وابستہ ہے۔ ہر قسم کے آمد و صرف کی شعبہ وار اور مد وار تفصیلات رکھنا اس کے فرائض میں ہے۔ ادنی سے ادنی رقم اور معمولی سے معمولی چیز بغیر رسید کے داخل نہیں کی جاتی۔ اسی طرح کوئی صَرف بھی بغیر واؤچر کے نہیں کیا جاتا۔ دارالعلوم کا خزانہ اسی شعبہ کے واسطے سے مہتمم صاحب کی تحویل میں رہتا ہے۔ حسابات کے اندراجات مروجہ حسابی طریق کے مطابق نہایت واضح اور صاف رکھے جاتے ہیں اور جانچ پڑتال کے لیے اس کا دروازہ ہر شخص کے لیے کھلا رہتا ہے۔ اس کے باوجود مزید احتیاط کے طور پر رجسٹرڈ آڈیٹروں سے سالانہ حسابات چیک کرائے جاتے ہیں۔ اساتذہ و ملازمین کی تنخواہ اور طلبہ کے وظائف کی تقسیم کا کام بھی اسی شعبہ سے متعلق ہے۔ دوسرے شعبوں کے ذریعہ سے جو مصارف ہوتے ہیں ان کی جانچ پڑتال بھی محاسبی کے فرائض میں داخل ہے۔

الحمد للہ دارالعلوم کی دوسری خصوصیات کی طرح شعبہٴ محاسبی بھی حسابات کی صفائی و عمدگی اور حسن انتظام میں اپنی نظیر آپ ہے جس کا اعتراف ہر دور میں ماہرین نے کیا ہے۔

محافظ خانہ

دفتری حیثیت سے محافظ خانہ کو روداد دارالعلوم میں انتظام کی روح سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ شعبہ ۱۳۵۵ھ/ ۱۹۳۷ء میں قائم ہوا اور اس میں دارالعلوم کا تمام تاریخی سرمایہ محفوظ ہے۔ محافظ خانہ ادارہٴ اہتمام سے ملحق ایک دومنزلہ کمرہ میں واقع ہے۔دارالعلوم کے تمام شعبہ جات کے کاغذات اور دستاویزات اسی شعبہ میں محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ دارالعلوم کے انتظام و تعلیم سے متعلق ہر فرد کے متعلق خصوصی تفصیلات اور ریکارڈ اس شعبہ میں محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ مجلس شوری اور مجلس عاملہ کی تمام کارروائیوں کا ریکارڈ بھی اسی دفتر میں مرتب اور محفوظ ہوتا ہے۔ دفتر اہتمام سے صادر ہونے والے جملہ اہم احکامات اور کاغذات کی نقول یہاں جمع ہوتی ہیں۔ گویا یہ دفتر دارالعلوم کی اب تک کی تاریخ کے تمام اہم ریکارڈ کا خزینہ ہے۔

دارالعلوم کی جملہ رسیدات اور سندات وغیرہ کی طباعت کا کام بھی دفتر محافظ خانہ سے انجام دیا جاتا ہے۔ نیز، دارالعلوم کے تمام شعبہ جات اور دفاتر کو اسٹیشنری اور کاغذ وغیرہ کا مطلوبہ سامان اسی دفتر کے توسط سے فراہم کیا جاتا ہے۔

کتب خانہ

کسی تعلیمی ادارہ اور دانش گاہ کے لیے کتب خانہ وہی حیثیت رکھتا ہے جو جسمِ انسانی میں ریڑھ کی ہڈی کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اکابردارالعلوم کے سامنے تعلیم کا جو بلند معیار تھا اوراساتذہ و طلبہ کے مطالعہ و تحقیق اور تصنیف وتالیف کی جو اہم ذمہ داریاں تھیں ان سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے ضروری تھا کہ ایک اعلی درجہ کا کتب خانہ موجود ہو، کیوں کہ ایسے کتب خانے کے بغیر تدریس و تحقیق کا اعلی معیار برقرار نہیں رکھا جاسکتا تھا۔ اس غرض سے کتب خانہ کے لیے دارالعلوم کے قیام کے ساتھ ہی کوششیں شروع کردی گئی تھیں۔

 دارالعلوم کے عظیم کتب خانہ میں ایک بڑی تعداد ان کتابوں کی بھی ہے جو علم دوست والیانِ ملک و ریاست کی جانب سے دارالعلوم کو بطور عطیہ حاصل ہوئیں جیسے ترکی کے سلطان رشاد خاں، سعودی عرب کے سلطان ابن سعود، مرحوم جمال عبدالناصر صدر جمہوریہ مصر، حکومت افغانستان اور فرمانروا ئے دکن نیز ہندوستان کے بہت سے علمی خانوادوں کے ذخائر کتب، دارالعلوم کے کتب خانہ کی زینت ہیں۔ان کے علاوہ حسب ضرورت درسی ومعاون کتابیں خرید کر بھی داخل کتب خانہ کی جاتی رہی ہیں۔ اس طرح سے بھی کتب خانہٴ دارالعلوم میں کتابوں کا ایک بڑا اور گراں قدر ذخیرہ جمع ہوگیا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

اب تک درسی و غیر درسی کتابوں کی تعداد دو لاکھ سے زائد ہے، جس میں ایک بڑا حصہ غیردرسی کتابوں کا ہے۔ یہ کتب خانہ کمیت و کیفیت اور اپنی ندرت کے اعتبار سے ملک کے ممتاز کتب خانوں میں ایک مقام رکھتا ہے۔اس سے ہند و بیرون ہند کے اہل علم اور مصنفین ہمیشہ فائدہ اٹھا تے رہتے ہیں۔ استفادہ کی سہولت کے لیے کتب خانہ کی کتابوں کی تقسیم وترتیب میں زبان اور فن کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ کتب خانہٴ دارالعلوم میں بیشتر کتابیں عربی زبان سے متعلق ہیں، اس کے بعد اردواور پھر فارسی ودیگر زبانوں کی کتابیں ہیں۔دارالعلوم کے کتب خانہ میں درج ذیل زبانوں کی کتابیں موجود ہیں:

(۱) عربی (۲) فارسی (۳) اردو (۴) انگریزی (۵) ہندی (۶) گجراتی (۷) پنجابی (۸) پشتو (۹)تلگو (۱۰) تامل (۱۱) فرانسیسی (۱۲) بنگلہ (۱۳) ترکی (۱۴) ملیالم (۱۵) مراٹھی (۱۶) سندھی (۱۷) برمی۔

 موضوعات اور عنوانات کے اعتبار سے کتابوں کی تقسیم کی گئی ہے جن کی تعداد سو سے زیادہ ہے۔ موضوعات اور عنوانات کے اعتبار سے کتابوں کی تقسیم اس طرح ہے:

علومِ قرآنی: (۱) قرآن کریم (۲) تجوید (۳) قرأت (۴)اصولِ تفسیر (۵)تفسیر (۶)حواشی اور شروح و تفسیر (۷)احکام القرآن (۸)غریب القرآن (۹)اعراب القرآن (۱۰)الناسخ والمنسوخ (۱۱)اسباب النزول (۱۲)متعلقات قرآن (۱۳)استخراج آیات (۱۴)مضامین قرآن (۱۵)تراجم قرآن فارسی (۱۶)تراجم قرآن اردو۔

علم حدیث اور متعلقات: (۱۷) حدیث صحاحِ ستہ وغیرہ مع شروح و حواشی (۱۸) اصولِ حدیث (۱۹)مسانید وسُنن (۲۰)دیگر مجموعہٴ احادیث (۲۱)موضوعاتِ حدیث (۲۲)غریب الحدیث (۲۳)استخراج الحدیث (۲۴)اسماء الرجال۔

اصول فقہ اور فقہ و فتاویٰ: (۲۵)اصولِ فقہ حنفی (۲۶)اصولِ فقہ مالکی (۲۷)اصولِ فقہ شافعی (۲۸)اصولِ فقہ حنبلی (۲۹)اصول فقہ اہل حدیث(۳۰)فقہ حنفی (۳۱)فقہ مالکی (۳۲)فقہ شافعی (۳۳)فقہ حنبلی (۳۴)فقہ علماء ظاہر (۳۵)فقہ اہل حدیث (۳۶)فتاویٰ حنفی (۳۷)فرائض۔

عقائد وکلام : (۳۸)علم عقائد و کلام (۳۹)حکمتِ شرعیہ۔

تصوف: (۴۰)علم تصوف (نثر) (۴۱)علم تصوف (نظم) (۴۲)علم تصوف (مکتوبات) (۴۳)علم تصوف (ملفوظات)۔

متفرقات: (۴۴)مواعظ و اخلاق (۴۵)اوراد و وظائف و عملیات (۴۶)عربی ادب (نثر) (۴۷)عربی ادب (نظم) (۴۸)علم معانی (۴۹)علم نحو (۵۰)علم صرف (۵۱)تاریخ عام (۵۲)تاریخ تہذیب و تمدن (۵۳)تاریخ علوم و مذاہب (۵۴)سیرت النبی (۵۵)تراجم صحابہ (۵۶)تراجم فقہاء و محدثین و دیگر علماء (۵۷)تذکرہ علمائے دیوبند (۵۸)تراجم اولیائے کرام (۵۹)تذکرة الشعراء (۶۰)دائرة المعارف (۶۱)سفر نامے (۶۲)کوائف دارالعلوم دیوبند (۶۳)انساب (۶۴)فہرس الکتب (۶۵)مجامیع(۶۶)متفرقات (۶۷)علم طبقات الارض (۶۸)علم الکیمیا (۶۹)علم الزراعة (۷۰)علم الاصوات والحیوانات (۷۱)سیاسیات (۷۲)فلسفہ (۷۳)منطق (۷۴)ہیئت (۷۵)معاشیات و اقتصادیات (۷۶)اخبار و رسائل (۷۷)عمرانیات و معلوماتِ عامہ (۷۸)جغرافیہ (۷۹)طب (۸۰)تعبیر روٴیا (۸۱)کتب اہل کتاب (۸۲)کتب دھرم شاستر (۸۳)اصول مناظرہ (۸۴)کتب مختلف مذاہب (۸۵)کتب عیسائیت (۸۶)کتب ردِّ عیسائیت (۸۷)کتب قادیانیت (۸۸)کتب ردّ قادیانیت (۸۹)کتب مبتدعین (۹۰)کتب رد ّبدعت (۹۱)کتب غیر مقلدین (۹۲) کتب ردّ غیر مقلدین (۹۳) کتب اہل تشیع (۹۴) ردِّروافض (۹۵)ردّ نیچریت (۹۶)کتبِ خاکساریت (۹۷)ردّ خاکساریت (۹۸)کتب فرقہٴ مہدویہ (۹۹)ردّ ِمہدویہ (۱۰۰)کتب فرقہٴ بہائیہ (۱۰۱) ردّ فرق بہائیہ۔

 تمام غیر درسی کتابوں کی مفصل فہرست مکمل وضاحت کے ساتھ موجود ہے، کتابیں نکالنے کے لیے حروف تہجی کے لحاظ سے جدید طریقہٴ کار، کارڈ سسٹم کا استعمال ہوتا ہے۔

کتب خانہ کی موجودہ عمارت ۱۳۲۴ھ /۱۹۰۶ء میں تعمیر ہوئی ، پھر ۱۳۳۴ھ / ۱۹۹۶ء میں دوبارہ توسیع ہوئی۔ کتب خانہ اس وقت تین وسیع ہال اورچھوٹے بڑے بارہ کمروں پر مشتمل ہے۔ ان میں ایک ہال عربی کتب کے مطالعہ کے لیے اور ایک اردو کتب کے مطالعہ کے لیے مخصوص ہے،جہاں طلبہ و اساتذہ اور دوسرے حضرات مطالعہ وتحقیق میں مشغول رہتے ہیں،جب کہ تیسرے ہال میں نوادرات ومخطوطات بہت ہی حفاظت کے ساتھ رکھے ہوئے ہیں۔ایک کمرہ علمائے دیوبند کی تصنیفات کے لیے مخصوص ہے جو تمام زائرین خصوصاً ریسرچ اسکالر حضرات کے لیے خاص دل چسپی کا سامان ہے۔

مخطوطات : کتب خانوں کی دنیا میں قلمی کتابوں اور مخطوطوں کی ہمیشہ سے بڑی اہمیت اور قدرو قیمت رہی ہے۔ دارالعلوم کے کتب خانہ میں متعدد نادر اور گراں قدر مخطوطات موجود ہیں۔ مخطوطات میں ایک خاصی تعداد ایسی نادر الوجود کتابوں کی بھی ہے جو کمیاب ونایاب اورعلمی و تحقیقی ذوق رکھنے والوں کے لیے متاعِ بے بہا ہیں۔ بعض ان میں فن خطاطی کے لحاظ سے لاجواب ہیں تو بعض اپنی قدامت کے اعتبار سے لائق توجہ۔ ایک تعداد ایسی بھی ہے جو نقاشی و مصوری میں بے مثال ہے اور شاہی کتب خانوں کی زینت رہ چکی ہے۔ مخطوطات کی باضابطہ فہرست مع تعارف مرتب کردی گئی ہے تاکہ واردین اور شائقین کے لیے ان سے استفادہ آسان ہو، چناں چہ مخطوطات کی مفصل فہرست دو جلدوں میں شایع ہوئی ہے۔پہلی جلد تفسیر، حدیث، فقہ اور عقائد و کلام وغیرہ پر مشتمل ہے۔دوسری جلد تصوف، تاریخ، معانی، ادب عربی، لغت، فلسفہ، منطق، ہیئت، صرف، نحو، مناظرہ، ریاضی، طب، ادبِ فارسی اور ادبِ اردو وغیرہ کی فہرست اور مختصر تعارف پر مبنی ہے۔

کتب خانہ دارالعلوم کا خاص امتیاز: یہ کتب خانہ اہل علم وتحقیق کے لیے اپنی پوری خصوصیات کے ساتھ معلوم و مشہور ہے۔ ہندوستان کے دیگر تمام گراں قدر کتب خانوں سے کتب خانہٴ دارالعلوم کو جوچیز امیتازی شان عطا کرتی ہے، وہ ہے اس کی پشت پر ایشیا کی عظیم دینی درسگاہ ازہرِ ہند دارالعلوم دیوبند۔یہاں آنے والے مہمانان کرام اس وقت تک تشنہٴ زیارت رہتے ہیں جب تک وہ اس کے عظیم الشان کتب خانہ کے تمام حلقات کو نہ دیکھ لیں۔ یہاں تحقیق و ریسرچ کرنے والوں کے لیے مختلف النوع دلچسپیوں کے وافر سامان مل جاتے ہیں۔ چناں چہ یہاں علم وتحقیق کے پیاسوں کا ایک تانتا اور سلسلہ برابر لگارہتا ہے، اس کے نایاب اور نادر علمی ذخیرے سے استفادہ کرنے والے برابر آتے رہتے ہیں۔ تحقیق و ریسرچ کے لیے آنے والوں کو حتی الامکان سہولتیں بہم پہنچائی جاتی ہیں۔

شیخ الہند لائبریری : دارالعلوم کی شایان شان جدید سہولیات سے آراستہ ایک عظیم الشان کتب خانہ کی ضرورت عرصہ سے محسوس کی جارہی تھی۔ الحمد للہ گزشتہ کئی برسوں سے حضرت شیخ الہند کی طرف منسوب نئی لائبریری کی تعمیر ہورہی ہے اور اب وہ اپنی آخری مراحل میں ہے۔ یہ لائبریری سات منزلہ اور گول ہے ۔ اس میں پانچ لاکھ سے زائد کتابوں کے علاوہ، مطالعہ گاہ اور ریسرچ ہال بھی ہوگا۔ عمارت میں کتب خانہ کے ساتھ ساتھ دورہٴ حدیث کی درس گاہ اور وسیع و عریض کانفرنس ہال بھی شامل ہے۔

شعبہٴ تنظیم و ترقی

شعبہٴ تنظیم و ترقی دارالعلوم کا نہایت اہم شعبہ ہے ۔ یہ شعبہ ۱۳۵۵ھ سے قائم ہے۔ اس شعبہ کا کام دارالعلوم کے لیے مالیات اور غلہ وغیرہ کی فراہمی ہے۔ عطیات وصول کرنے کے لیے متعدد سفراء مامور ہوتے ہیں جن پر ملک کے مختلف حصوں کو تقسیم کردیا گیا ہے۔ یہ سفراء اپنے اپنے حلقوں میں دورہ کرتے ہیں اور دارالعلوم کے لیے مالی امداد جمع کرتے ہیں۔ طلبہ کے لیے غلہ کی فراہمی بھی یہی شعبہ انجام دیتا ہے۔اس شعبہ میں اس وقت سات دفتری عملہ کے علاوہ تقریباً پچاس سفراء حضرات متعین ہیں جو ملک کے طول و عرض میں دارالعلوم کی نمائندگی کے فرائض انجام دینے کے علاوہ عوام کے ساتھ رابطہ رکھتے ہیں اور دارالعلوم کے لیے چندہ جمع کرتے ہیں۔

دفتر تنظیم و ترقی برانچ ممبئی: یہ دفتر ہندوستان کی تجارتی راجدھانی ممبئی میں دفتر تنظیم کی شاخ کے طور پر کام کرتا ہے ۔ اس دفتر کا قیام ۱۴۰۶ھ میں عمل میں آیا۔ اس کے مقاصد میں رابطہٴ عامہ اور فراہمی مالیات وغیرہ کے وہی امور ہیں جو تنظیم و ترقی کے مقاصد ہیں۔

دارالاقامہ

یہ شعبہ بھی دارالعلوم کا ایک فعال شعبہ ہے۔ دیگر شعبوں کی طرح اس شعبہ کا بھی ایک دفتری نظام ہے جو ہر وقت مصروف عمل رہتا ہے۔ دفتر دارالاقامہ کے فرائض میں طلبہ کے کمروں کی ترتیب، سیٹوں کا اجراء و نسخ، طلبہ کے لیے شناختی کارڈ اور تعطیلات میں کنسیشن کا اجراء وغیرہ اہم امور شامل ہیں۔ طلبہ کے لیے کمروں کی تجویز و تعیین، ان کی اخلاقی نگرانی اور طلبہ کے مابین نزاعی معاملات میں فصل خصومات دارالاقامہ سے تعلق رکھتے ہیں جو اساتذہ کے ذریعہ انجام دیے جاتے ہیں۔دارالعلوم کے تمام بڑے دروازوں پر دربانوں کا نظم، چوبیس گھنٹہ نظم و حفاظت کے لیے اندرون دارالعلوم گشتی کا انتظام بھی دارالاقامہ کے ذمہ ہے۔

دارالعلوم کا دارالاقامہ اس وقت دار جدید، رواق خالد، شیخ الہند منزل، شیخ الاسلام منزل، حکیم الامت منزل وغیرہ جیسے تیرہ وسیع احاطوں اور ۶۲۵ کمروں پر مشتمل ہے جن میں تقریباً چار ہزار طلبہ و اساتذہ کا قیام رہتا ہے۔ طلبہ کے ہاسٹل مختلف حلقوں میں تقسیم ہیں اور ہر حلقہ کا ایک نگراں مقرر ہوتا ہے۔ شعبہ میں ناظم اعلی کے علاوہ، معتدد نظمائے حلقہ کام کرتے ہیں جو سب کے سب اساتذہٴ دارالعلوم ہوتے ہیں۔

طلبہ کی کردار سازی اور دینی تربیت کے مقصد سے متعدد مواقع پر اصلاحی اجلاسات کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں حضرات اکابر و اساتذہ ان کو نصیحتیں فرماتے ہیں۔ قوانین وضوابط کا احترام، اکابر و اساتذہ کی اطاعت، باہمی محبت و اخلاص اور رواداری طلبہٴ دارالعلوم کے اخلاقی نظام کے مخصوص اوصاف ہیں۔

شعبہٴ مطبخ

دارالعلوم میں مطبخ کا باقاعدہ قیام ۱۳۲۸ھ (۱۹۱۰ء) میں عمل میں آیا۔ دارالعلوم کے ابتدائی چالیس سالوں میں مطبخ کے قیام سے پہلے بیرونی طلبہ کے کھانے کا انتظام یہ تھا کہ بعض طلبہ کا کھانا تو اہل شہر کے ذمہ تھا، اہل خیر حضرات ایک ایک دو دو طالب علم کو کھانا دیتے تھے ، جب کہ کچھ طلبہ کو نقد وظیفہ دیا جاتا تھا جس سے اپنے کھانے کا خود انتظام کرتے تھے۔ ۱۳۲۸ھ میں نقد وظیفہ کے بجائے مطبخ کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ پہلے سال میں صرف ۲۵ سے ۳۰ طلبہ کا کھانا پکتا تھا۔ رفتہ رفتہ تعداد بڑھتی گئی اور اس کا نظام وسیع ہوتا گیا۔

اس وقت اس شعبہ میں تقریباً پچاس افراد کا عملہ ہے جو تقریبا ً چار ہزار سے زائدطلبہ کے لیے صبح و شام کا کھانا تیار کرکے تقسیم کرتا ہے۔ مطبخ کی عمارت احاطہٴ دارالعلوم کے جنوبی گوشے میں چھتہ مسجد کے پاس واقع ہے۔ یہ عمارت کئی حصوں پر منقسم ہے۔ شعبہٴ مطبخ کے فرائض میں کھانے کی تیاری اور اس کے لیے ضروری سامان کی فراہمی، تقسیم طعام ، مطبخ سے کھانا پانے والے تمام طلبہ کا ریکارڈ اور اس سلسلہ کے مکمل حسابات کی تکمیل شامل ہے۔ یہ شعبہ طلبہ کو پورے سال حتی کہ رمضان و عید الفطر اور عید الاضحی وغیرہ کی تعطیلات میں بھی دارالعلوم میں قیام پذیر طلبہ کو طعام کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔

دارالعلوم کی طرف سے طلبہ کو تعلیم اور رہائش وغیرہ کے ساتھ مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ مستطیع طلبہ کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ قیمتاً کھانا حاصل کرسکیں۔ طلبہ کے لیے پرہیزی کھانا کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، دارالعلوم کے متعلقین کے لیے خصوصی مواقع پر خاص قسم کے کھانوں کی تیاری کا انتظام بھی مطبخ کے ذریعہ ہوتا ہے۔

آٹا چکی: دارالعلوم میں آٹا چکی کا مستقل نظام قائم ہے اور مطبخ کی ضروریات کی تکمیل کے لیے آٹا چکی کا شعبہ کام کررہا ہے ۔

شعبہٴ تعمیرات

دارالعلوم میں شعبہٴ تعمیرات ۱۳۳۲ھ/۱۹۱۴ء سے قائم ہے۔ اس سے پہلے تعمیرات کی دیکھ بھال براہ راست دفتر اہتمام سے متعلق تھی۔

شعبہٴ تعمیرات دارالعلوم کا نہایت سرگرم شعبہ ہے جو دارالعلوم کے تمام تعمیراتی امور کی نگرانی کرتا ہے۔ نئی عمارات کی تعمیر کے ساتھ پرانی عمارتوں کی اصلاح و مرمت ، رنگ و روغن اور دیکھ بھال بھی اسی شعبہ کے فرائض میں شامل ہے ۔ اس شعبہ کی کارکردگی کا کوئی خاص وقت یا موسم مقرر نہیں ہے، یہ شعبہ ایام تعلیم کے علاوہ تعطیل کے دنوں میں بھی اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف رہتا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں اس شعبہ کی کارکردگی میں بڑی وسعت اور پھیلاؤ آیا ہے۔ اس عرصہ میں کئی اہم اور شاندار عمارتیں تعمیر ہوئیں اور دارالعلوم کا زمینی رقبہ دوگنے سے زیادہ ہوگیا۔ جامع رشید، مدرسہ ثانویہ، دارالمدرسین،رواق خالد، شیخ الہند منزل (اعظمی منزل) شیخ الاسلام منزل (آسامی منزل) ، حکیم الامت منزل (تحفیظ القرآن منزل) وغیرہ عمارتیں اسی شعبہ کی نگرانی میں تعمیر ہوئیں۔ سنگ مرمر کی عظیم الشان پرشکوہ جامع رشید کی تعمیر بھی جوفن تعمیر کا ایک شاہکار ہے اسی شعبہ کی کارکردگی کا ایک حصہ ہے۔ گزشتہ برسوں میں دارالاقامہ دارجدید کے از سر نوانہدام کے بعد اس کی سہ منزلہ دوبارہ تعمیر شروع کی گئی۔ اسی طرح عظیم الشان شیخ الہند لائبریری کی تعمیر بھی اسی شعبہ کی نگرانی میں جاری ہے۔

شعبہٴ اوقاف

اوقاف کا سلسلہ دارالعلوم کی عمارتوں کی تعمیر کے ساتھ شروع ہو گیا تھا۔تاہم باضابطہ یہ شعبہ ۱۳۳۵ھ/ ۱۹۱۷ء میں قائم ہوا۔ وقتاً فوقتاً اہل خیر اپنی چھوٹی چھوٹی جائدادیں دارالعلوم کے لیے وقف کرتے رہے؛ البتہ کوئی ایسی جائداد جس کے ذریعہ سے دارالعلوم کے معتد بہ مصارف پورے ہوسکیں، اوقاف دارالعلوم میں نہیں ہے۔ یہ اوقاف ہندوستان کے مختلف مقامات میں واقع ہیں۔

یہ شعبہ دارالعلوم کی تمام موقوفہ و مملوکہ جائداد کی حفاظت اور دیکھ بھال کے فرائض انجام دیتا ہے۔ عمارتوں کے کرایہ کی وصول یابی، نادہندوں اور قابضین کے خلاف قانونی چارہ جوئی، جائداد سے متعلق مقدمات کی پیروی وغیرہ جیسے امور اس شعبہ کے ذمہ ہیں۔

مکتبہ دارالعلوم

یہ شعبہ دارالعلوم کا قدیم اشاعتی ادارہ ہے۔ اس شعبہ کے مقاصد میں عقائد صحیحہ حقہ کی اشاعت، اکابر و علمائے دیوبند کے علوم و معارف کی توسیع و تشہیر اور مسلک دیوبند کی حفاظت و دفاع وغیرہ امور شامل ہیں۔ مکتبہ دارالعلوم کے ذریعہ حضرات اکابرین دارالعلوم کی اہم کتابوں کی نشر و اشاعت کا کام انجام دیا جاتا ہے۔

مکتبہ دارالعلوم کے زیر اہتمام اب تک ساٹھ سے زیادہ کئی اہم اور وقیع کتابیں شائع ہوکر قبول عام حاصل کرچکی ہیں۔ فتاوی دارالعلوم کا مشہور و مستند مجموعہ مکتبہ دارالعلوم کے ذریعہ شائع کیا گیا ہے۔ نیز، شیخ الہند اکیڈمی، مجلس تحفظ ختم نبوت اور شعبہٴ مطالعہٴ عیسائیت کے ذریعہ شائع کردہ تمام کتابیں مکتبہ دارالعلوم کے کاؤنٹر سے ہی دستیاب ہوتی ہیں۔

طلبہ کو انعام میں دی جانے والی ہزارہا ہزار کتابوں کی فراہمی و نظم بھی مکتبہ دارالعلوم کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔ مختلف اجلاسات اور کانفرنسوں وغیرہ کے مواقع پر دارالعلوم کی کتابوں کا بک اسٹال بھی لگایا جاتا ہے۔

شعبہٴ برقیات

شعبہ برقیات ۱۳۷۲ھ/۱۹۵۲ء سے قائم ہے۔ دارالعلوم میں بجلی کی روشنی کا انتظام نہایت وسیع ہے ؛ اس لیے ان امور کی برآری کے لیے ایک مستقل شعبہ قائم کیا گیا۔درس گاہوں ، دفاتر، اقامت گاہوں ، مساجد ، شاہراہوں اور راہداریوں میں بجلی نصب ہے ، نیز گرمی اور سردی کے موسموں کے لحاظ سے برقی پنکھوں، ریفریجر یٹر اور گرم پانی وغیرہ کا بھی انتظام ہے جس کی دیکھ بھال یہی شعبہ کرتا ہے۔ بجلی گل ہونے کی صورت میں جنریٹر کے ذریعہ بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ دارالعلوم کے احاطہ میں پانی کی سپلائی، واٹر ٹینکوں کی دیکھ بھال بھی اسی شعبہ کے ذریعہ کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ، دارالعلوم کی گاڑیوں کی دیکھ بھال، مرمت، ڈرائیوروں سے متعلق معاملات اور گاڑیوں کے پروگرام کی ترتیب وغیرہ بھی اسی شعبہ کے دائرہٴ کار میں آتی ہے۔ درس گاہوں میں یا اجلاسات اور کانفرنسوں وغیرہ کے مواقع پر لاؤڈاسپیکر سیٹنگ اور آڈیو ریکارڈنگ وغیرہ امور کا نظم بھی اسی شعبہ سے متعلق ہے۔

عظمت ہسپتال

دارالعلوم میں طب یونانی کی تعلیم کے ساتھ علاج معالجہ کا سلسلہ ۱۳۰۱ھ/۱۸۸۴ء سے قائم ہوگیا تھا۔ تکمیل الطب کی تعلیم کے ساتھ مستقل طور پر دارالشفاء کا قیام بھی عمل میں آیا۔ بعد میں یہ دارالشفاء ’عظمت ہسپتال‘ کے نام سے موسوم ہوا۔

دارالشفاء طلبہ کو تقریباً مفت اور غیر طلبہ کو نہایت کم قیمت پر علاج کی سہولت مہیا کرتا ہے۔ اس ہسپتال میں یونانی اور ایلوپیتھک دونوں قسم کے علاج کا نظم ہے۔ طلبہ کے علاوہ غریب لوگوں کے لیے یہ نہایت مفید ہسپتال ہے جس سے وہ بلا کسی قید مذہب و ملت فائدہ اٹھاتے ہیں۔

عظمت ہسپتال کو ماہر یونانی اور ایلوپیتھک معالجین کی خدمات حاصل ہیں۔ امراض کی تشخیص اور دواؤں کی تیاری و تقسیم اس شعبہ کے ذریعہ انجام دی جاتی ہے۔ یہ شعبہ بہت فعال ہے اور اس کے ذریعہ کافی لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس کی خدمات کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ایک سال میں اس شعبہ سے مستفیدین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوجاتی ہے۔

مہمان خانہ

دارالعلوم میں مہمانوں کے آمد و رفت کی وجہ سے باضابطہ ۱۳۱۷ھ/ ۱۸۹۹ء سے مہمان خانہ قائم ہے۔ ۱۹۵۷ء میں دارالعلوم مسجد کے سامنے مہمان خانہ کی مستقل عمارت تعمیر ہوئی جس کی ۱۹۹۴ء میں تعمیر نو ہوئی اور اس کو مزید وسیع بھی کیا گیا اور حسب ضرورت میٹنگ ہال، طعام ہال، ایئر کنڈیشنڈ کمرے تیار کرائے گئے۔ مجلس شوریٰ ومجلس عاملہ کے اجلاسات اوردیگر اہم میٹنگیں مہمان خانہ میں انجام پاتی ہیں۔

مہمان خانہ میں مہمانوں کے قیام و طعام کا معقول نظم رہتا ہے۔ مہمانوں کی سہولت کے پیش نظر بجلی، پانی، بیڈ اور موسم کی مناسبت سے گرم و ٹھنڈا پانی، پنکھے، کولر ، لحاف وغیرہ کا انتظام رہتا ہے۔بہت سے ملکی و غیر ملکی مہمانوں کی ایک کثیر تعداد روزآنہ مہمان خانہ کی سہولیات سے مستفید ہوتی ہے۔

شعبہٴ خرید اری

دارالعلوم میں شعبہ جات و دفاتر کی کثرت و وسعت اور دیگر مختلف امور کی وجہ سے اشیاء کی خریداری کا کام ہمیشہ رہتا ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر دارالعلوم نے تمام شعبہ جات و دفاتر کے لیے ایسا نظام مقرر کیا ہے کہ جملہ سامانوں کی خریداری کاکام ایک شعبہ کے ذریعہ انجام دیا جائے تاکہ نظم و انتظام میں سہولت ہو۔ اسی مقصد کے تحت دارالعلوم میں اشیاء کی خرید و فروخت کے لیے ۱۴۱۸ھ /۱۹۹۸ء سے مستقل شعبہ قائم ہے۔

اس شعبہ کے ذریعہ ہر شعبہ کے لیے ضروری سامانوں کی خرید اری کا کام انجام دیا جاتا ہے۔ بڑے اور اہم سامانوں کی خریداری کے لیے براہ راست عموماً کمپنی سے رابطہ کیا جاتا ہے اور مختلف کمپنیوں یا ڈیلروں سے کوٹیشن لے کر سامان کی خریداری کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ سامانوں کی قیمت کی ادائیگی عموماً چیک کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ شعبہٴ خریداری کا نظام انتہائی صاف و شفاف اور منظم ہے۔

خریداری کے علاوہ ، دارالعلوم کے شعبہ جات اور دفاتر کے پرانے اور ناقابل استعمال سامانوں کی فروختگی کا کام بھی اسی شعبہ کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔

اسٹاک روم

شعبہٴ اسٹاک روم ۱۴۱۸ھ /۱۹۹۸ء میں قائم ہوا۔ اسٹاک روم میں دارالعلوم کے جملہ سامانوں کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور حسب موقع دفاتر اور شعبہ جات کو فراہم کیا جاتا ہے۔ شعبہٴ خریداری کے ذریعہ خریدے ہوئے روز مرہ کے استعمال کے تمام سامانوں اور اشیاء کا اندراج اسٹاک روم میں ہوجاتا ہے اور پھر وہاں سے حسب ضرورت متعلقہ شعبہ جات کی ضرورت اور درخواست پر انھیں فراہم کیا جاتا ہے۔

اسٹاک روم میں دارالعلوم کے جملہ دفاتر اور شعبہ جات کی پرانی اور کارآمد اشیاء کو اندراج کے بعد محفوظ بھی رکھا جاتا ہے۔

کمپیوٹر برائے کتابت

ملک میں کمپیوٹر متعارف ہوتے ہی دارالعلوم نے اردو و عربی ترجمان ماہناموں کو کمپیوٹر کتابت کے ساتھ نکالنا شروع کردیا تھا۔ پہلے یہ کام دہلی اور پھر دیوبند میں مارکیٹ کے ذریعہ انجام دیا جاتا تھا۔ دارالعلوم میں شعبہٴ کمپیوٹر کی ابتدا کے بعد کچھ دنوں تک ان کی کمپوزنگ کا کام شعبہٴ کمپیوٹر کے ذریعہ انجام دیا جانے لگا۔ بعد میں ضرورت کے پیش نظر کمپوزنگ وغیرہ امور کی انجام دہی کے لیے مستقل طور پر شعبہٴ کمپیوٹر برائے کتابت کا قیام عمل میں آیا۔

اس شعبہ میں مستقل طور پر عربی مجلہ ’الداعی ‘اور ماہنامہ ’دارالعلوم‘ کی کمپوزنگ اور سیٹنگ کا کام انجام دیا جاتا ہے۔ نیز، دفتر اہتمام اور دارالعلوم کے دیگر دفتری کاغذات اور خطوط وغیرہ کی کمپوزنگ کے کام معیاری طور پر انجام دیے جاتے ہیں۔

دفتر صفائی و چمن بندی

صفائی کا اہتمام اسلام کی اہم خصوصیات میں سے ہے۔ اس لیے دارالعلوم میں روز اول ہی سے صفائی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اسی مقصد کی تکمیل کے لیے یہ شعبہ قائم ہے جس کے ذریعہ دارالعلوم کی تمام گذرگاہوں، برآمدوں ، بیت الخلاؤں ، غسل خانوں اور دیگر عمارات کی صفائی کا کام انجام دیا جاتا ہے۔ نیز، خصوصی مواقع پر دارالعلوم کے جملہ دروازوں، چھتوں اور دیواروں کی صفائی اور دھلائی کا کام بھی انجام دیا جاتا ہے۔

اسی کے ساتھ اس شعبہ کے ذریعہ دارالعلوم کے تمام پارکوں کی چمن بندی اور تزئین کا کام بھی انجام دیا جاتا ہے۔ دارالعلوم کے احاطے میں مختلف چمن اور پارک بنے ہوئے ہیں جو قسم قسم کے خوبصورت اور صحت افزا پھولوں کے پودوں اور درختوں سے معمور ہیں۔ ان پارکوں کی دیکھ بھال، سینچائی اور تراش خراش بھی اسی شعبہ کے ذریعہ انجام دی جاتی ہے۔

شعبہٴ مکاتبِ اسلامیہ

دارالعلوم نے ۱۴۲۵ھ/۲۰۰۴ء میں کچھ انتہائی کم مسلم آبادی والے علاقوں میں جہاں دینی و تعلیمی صورت حال ابتر ہونے کے ساتھ قادیانی یا عیسائی مشنریاں سرگرم ہیں ایسے مقامات پر مکاتب اسلامیہ کے قیام کا سلسلہ شروع کیا۔ چناں چہ ہریانہ، پنجاب، اتراکھنڈ، راجستھان ، جھارکھنڈ، ہماچل پردیش اور نلگنڈہ (آندھراپردیش) میں مسلمان بچوں کی بنیادی دینی تعلیم کے لیے مکاتب اسلامیہ قائم کیے گئے۔ ہماچل پردیش اور نلگنڈہ (آندھراپردیش) کے مکاتب مقامی سطح پر خود کفیل ہو چکے ہیں، جب کہ دیگر مقامات کے مکاتب براہ راست دارالعلوم ہی کی نگرانی و تعاون سے چل رہے ہیں۔ ان مکاتب کی مجموعی تعداد چالیس سے زائد ہے۔ علاوہ ازیں، دیوبند شہر کی مختلف مساجد میں بھی دارالعلوم کی طرف سے مکاتب کا نظام قائم ہے۔