از: مولانا عمران اللہ قاسمی

            بعض شخصیات اپنے اعلیٰ کردار، پاکیزہ اخلاق، علمی کمالات، فنی مہارت جو دوسخا، کثیر خدمات، شاندار کارناموں اور ذاتی خصوصیات و امتیازات کی بدولت اپنی حیاتِ مستعار میں جس قدر محبوب و تابندہ نظر آتی ہیں ، وہ بسا اوقات اپنی حیاتِ دوام میں اور زیادہ محبوب اور تابندہ تر محسوس ہوتی ہیں ، حیاتِ مستعار کے بعد ان شخصیات کا کردار، ان کی خدمات کا منصفانہ تجزیہ، فکر و نظر کامطالعہ و محاکمہ، ان کی ذاتی زندگی پر تبصرہ زیادہ وضاحت کے ساتھ سامنے آجاتا ہے جس سے ان کی خدمات و تجربات کے مفید پہلو اجاگر ہوکر بعد والوں اور خصوصاً نسلِ نو کے لیے مشعلِ راہ کا کام دیتے ہیں ۔ ایسی ہی ممتاز ومحبوب ہستیوں میں معروف صاحب قلم حضرت مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی کاشمار ہوتا ہے۔

            حضرت مولانا سعید احمد کے والد محترم ابرار حسین صاحب معروف معالج، ایم بی بی ایس ڈگری یافتہ ڈاکٹر تھے، سرکاری ملازمت تھی، علماء وصلحاء کی صحبت کے سبب مزاج میں نیکی اور عمل میں تدین تھا، والد صاحب اپنے سبھی بچوں کی تعلیم کے لیے متفکر رہتے تھے اور سبھی کو تعلیم سے آراستہ کیا تھا مگراپنے ایک فرزند سعید احمد کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا، ابتدائی تعلیم گھر اور دیگر مکاتب و مدارس میں حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم دیوبند میں داخل کرایا، تعلیم و تربیت کے حوالے سے والد محترم کی توجہ و فکر مندی کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب تعلیم کے لیے مولانا کو دارالعلوم میں داخل کرنے کا ارادہ کیا تو والد محترم گھر کے سبھی افراد کے ساتھ خود چھ ماہ کی رخصت لے کر دیوبند آگئے اور ایک کرایہ کے مکان میں قیام پذیر رہے۔

            1929ء میں تعلیمی مرحلہ کی تکمیل کے بعد آپ نے جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل سورت سے تدریس کا آغاز کیا، تقریباً تین سال تک علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ اور دیگر اکابر کی صحبت میں ڈابھیل میں قیامت پذیر رہ کر 1931ء میں دہلی آگئے اور مدرسہ عالیہ فتح پوری میں تدریس کا مشغلہ اپنایا، اسی دوران مدرسہ عالیہ میں تدریس پر مامور رہتے ہوئے 1936ء میں دہلی یونیورسٹی سے ایم اے کا امتحان پاس کیا، پھر1943ء میں دہلی کے معروف کالج سینٹ اسٹیفن کالج دلی میں عربی اردو ادبیات کے لکچرر مقرر ہوئے، یہ آزادی سے پہلے کا زمانہ تھا، اسی کالج میں جنرل ضیاء الحق صدر پاکستان جیسی نابغہ روز گار ہستی نے آپ سے تلمذ پایا، ملک 1947میں آزاد ہوگیا اور مولانا ابوالکلام آزاد وزیر تعلیم بنائے گئے تو1948ء میں مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریک و شفارش پر کلکتہ کے عالی وقار ادارے مدرسہ عالیہ کے آپ پرنسپل مقرر کیے گئے وہاں پر آپ نے اپنی مہارت و دلچسپی اور گونا گوں کمالات کی بنا پر نمایا ں خدمات انجام دیں ۔1959ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے چانسلر کرنل بشیر حسین زیدی نے یونیورسٹی کے شعبہ دینیات کی صدارت کے لیے آپ کو منتخب کیا، علی گڑھ میں مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات سے منسلک ہوکر آپ نے اس کو ترقی کے اعلیٰ مقام تک پہنچایا اور یونیورسٹی کے دیگر شعبوں کی طرح جلد ہی اس کا وقار بحال کرنے میں کامیاب رہے دینیات (فیکلٹی آف تھیولوجی) میں پی یچ ڈی کے شعبہ کا اجرا مولانا اکبر آبادی کی جدوجہد ہی کا نتیجہ ہے۔

            مولانا نے ایشیا، روس، افریقہ اور یورپ کے متعدد ملکوں کے دورے کیے، متعدد بین الاقوامی سیمیناروں اور موتمر عالم اسلامی میں بھی شرکت فرمائی، مذکورہ خدمات اور متعدد کتابوں کی تصنیف کی بنا  پر آپ کی شخصیت معروف ہوچکی تھی؛ چنانچہ1962ء میں آپ کو دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کارکن منتخب کرلیا گیا، یونیورسٹی کی ملازمت کے ساتھ مختلف ملی خدمات میں بھی حصہ لیتے رہتے تھے، جب دہلی میں چند باتوفیق علماء عظام نے علوم اسلامیہ کی طباعت واشاعت اور اکابر کے علوم کے احیاء کی غرض سے ادارہ ندوۃالمصنّفین قائم کیا تو آپ بھی  اس کے سرگرم اور فعال رکن تھے؛ بلکہ ارکان ثلاثہ میں شمار ہوتے تھے، ندوۃ المصنّفین کے قیام کے ساتھ رسالے ماہنامہ برہان کی ادارت کی ذمہ داری پہلے پہل آپ کے ہی سپرد کی گئی، آپ کی دلچسپی، وقیع مضامین واداریئے کی بنا پر برہان بہت جلد ایک معیاری اور مقبول رسالہ بن گیا، اور ندوۃ المصنّفین سے مولانا کی متعدد تصانیف شائع ہوئیں ۔

            1972میں آپ مسلم یونیورسٹی سے مستعفی ہوگئے، اور ہمدرد یورنیورسٹی دلی کے علوم اسلامی کے شعبہ سے وابستہ ہوگئے، اس کے بعد چند سال کالی کٹ یونیورسٹی میں وزٹنگ پروفیسر رہے پھر دوبارہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ادارہ علوم اسلامی میں وزٹنگ پروفیسر رہے پھر دوبارہ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ میں ادارہ علوم اسلامیہ میں وزٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے متعین کرلیے گئے۔

            مولانا سعید احمد اکبر آبادی دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ تھے، اسی وجہ سے دارالعلوم دیوبند اس کے اساتذہ و اکابر سے حد درجہ انس ومحبت رکھتے تھے، دارالعلوم کی ترجمانی، اس کی خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے، رکن شوریٰ منتخب ہونے کے بعد شوری کی مجالسوں میں پابندی سے شرکت کرتے، تعمیر وترقی، تعلیم و انتظام کے سلسلے میں مفید مشورے دیتے، مولانا اکبر آبادی رحمہ اللہ متعدد تعلیمی اداروں سے وابستگی، یونیورسٹی کے ماحول اور بین الاقوامی سیمیناروں میں شرکت کے دوران اسلامی لٹریچر اور صحیح دینی و تاریخی معلومات پر مشتمل کتابوں کی قلت اور عدم دستیابی کو شدت سے محسوس کرتے تھے۔ اسی ضرورت کی تکمیل کے لیے ندوۃ المصنّفین قائم کی گئی تھی، مولانا کا احساس تھا کہ دارالعلوم دیوبند نے درس و تدریس، وعظ وارشاد، اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور تصنیف و تالیف کی راہ میں جو عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں وہ دنیا میں اسلامی تاریخ کا روشن باب ہیں ۔ لہٰذا موجودہ زمانے کے تقاضوں کے پیش نظر دارلعلوم دیوبند میں بھی ایک علمی و تحقیقی اکیڈمی کا قیام ہونا چاہیے۔ نیز دارالعلوم دیوبند کے ارباب حل و عقد بھی عرصے سے ایک ایسے شعبہ کے قیام کی ضرورت محسوس کررہے تھے، انہی اسباب کی بنا پر مارچ 1980 میں دارالعلوم کے اجلاس صد سالہ کے موقع پر اسی شعبہ کے قیام کی تجویز منظور کی گئی؛ مگر کچھ حالات و حوادث پیش آتے رہے جس کی وجہ سے یہ تجویز معرضِ التوا میں پڑی رہی اور بروئے کار نہ آسکی۔ (۱)

            پھر جب حالات معمول پر آئے، دارالعلوم اپنی سابقہ روایات کے مطابق امن و سکون اور اطمینان و اعتماد کی فضا میں سرگرم عمل ہوگیا تو ارباب شوریٰ اس تجویز کی طرف متوجہ ہوئے اور مولانا سعید احمد اکبر آبادی سے اکیڈمی کا لائحہ عمل اور خاکہ مرتب کرکے پیش کرنے کا مطالبہ کیا، چنانچہ 24، 25،26؍شوال1402ھ مطابق15،16،17؍اگست1982ء بمقام مسلم مسافر خانہ لکھنؤ میں منعقد ہونے والی مجلس شوری میں مولانا کی طرف سے پیش کردہ خاکہ پر بحث و مباحثہ کے بعد خاکہ میں چند ترمیمات کرکے اکیڈمی کے قیام کو منظوری دے دی گئی ۔ کارروائی شوریٰ تجویز نمبر11کے تحت درج ہے:

            ’’مجلس شوریٰ منعقدہ رجب1401ھ کی تجویز کے مطابق مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی نے مجوزہ اکیڈمی کا خاکہ مجلس کے سامنے پیش کیا جسے بعض ترمیمات کے ساتھ منظور کیا گیا اور مولانا موصوف کو اس اکیڈمی کا ڈئریکٹر مقرر کیا گیا‘‘۔ (۲)

            باہمی مشورے سے طے پایا کہ یہ اکیڈمی استاذ الاساتذہ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی کے نام سے موسوم ہوگی اور اس کا نام شیخ الہند اکیڈمی ہوگا۔

            حسب تجویز شوریٰ حضرت مولانا سعید احمد اکبر آبادی دارالعلوم دیوبند حاضر ہوگئے اور 25؍دسمبر 1982ء کو انہوں نے اکیڈمی کا چارج لے کر کام کا آغاز کردیا، دفتر اہتمام کو بھی تحریری اطلاع روانہ کردی، بعد ازاں حسب ضابطہ دفتر اہتمام کی جانب سے حضرت مولانا مرغوب ا لرحمن مہتمم دارالعلوم دیوبند کے دستخط کے ساتھ ایک اطلاعی تحریر دیگر متعلقہ دفاتر کو ارسال کی گئی۔ خلاصہ تفصیل یہ کہ اگست 1982کی مجلس شوری میں اکیڈمی کے قیام کی منظوری ملی اور 25؍دسمبر 1982ء کو حضرت مولانا نے حاضر ہوکر کام کا آغاز کردیا۔

            مولانا مجلس شوری میں اکیڈمی کا جو خاکہ پیش کیا تھا اس میں اکیڈمی کے قیام کے درج ذیل مقاصد بیان کیے گئے۔

             (۱)علوم وفنونِ اسلامیہ یعنی تفسیر،  حدیث، فقہ اور ان کے اصول تاریخ، تصوف، سوانح و تذکرہ اور عربی ادب وغیرہ پر تحقیقی کتابیں لکھنا اور شائع کرنا۔

            (۲)علوم بالا پر عربی کی جدید کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرنا۔

            (۳) اسلام کے جدید مسائل و مباحث پر کتابیں شائع کرنا۔

            (۴)عربی کے نادر مخطوطات کو تصحیح و ترتیب اور مقدمہ وحواشی کے ساتھ شائع کرنا۔

            (۵)اکابر دیوبند کی سوانح حیات اور ان کے علمی و عملی کارناموں ، ظاہری و باطنی کمالات پر کتابیں لکھنا اور شائع کرنا، ایسی کتابیں اردو و عربی دونوں زبانوں میں شائع کرنا۔

            (۶)ایک سہ ماہی مجلہ کا اجراء ، جس میں اکیڈمی کے اغراض و مقاصد کے تحت مقالات شائع ہوں گے۔

            (۷) اکیڈمی کی زبان اردو اور عربی دونوں ہوگی۔

            مولانا نے اسی خاکہ میں اس بات کی وضاحت کی کہ سردست اکیڈمی کے لیے کم از کم پانچ افراد کی ضرورت ہوگی۔(۱)ڈائریکٹر (۲)دوریسرچ اسسٹنٹ (۳)ایک کلرک اور (۴)ایک چپراسی۔ ڈائریکٹر کے منصب کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ فاضل دارالعلوم دیوبندہو، علوم و فنون اسلامیہ میں استعداد پختہ ہو، علمی اور تحقیقی تصنیف و تالیف کا وسیع تجربہ اور انتظامی صلاحیت بھی ہو۔ اسی طرح دیگر افراد کے مطلوبہ استعداد کو بیان کیا ہے۔ اکیڈمی کے منصوبہ پر مشتمل یہ خاکہ جس کو مولانا نے مرتب کرکے مجلس شوریٰ میں پیش کیا تھا بعد میں اس کو ماہنامہ دارالعلوم کے دسمبرنمبر82جنوری نمبر83 کے شمارے میں شائع کردیا گیا۔ شروع میں مولانا تن تنہا اکیڈمی کے امور انجام دیتے تھے پھر مجلس شوریٰ منعقد ہ شعبان1403ھ مطابق1983ء میں مولانا کی تائید و تصویب سے دارالعلوم کے ایک فاضل مولوی عتیق اللہ قاسمی کابطور معاون تقرر عمل میں آیا، اس کے بعد مولانا نے اپنے معاون مولوی عتیق اللہ کے ساتھ مل کر اکیڈمی کی سرگرمیوں کو بڑھایا، اس کی کار کردگی کو وسعت بخشی، مجلس شوری منعقدہ صفر1405ھ مطابق1984ء میں شیخ الہند اکیڈمی کی پیش کردہ رپورٹ سے اس وقت کی اکیڈمی کی تصنیفی و تالیفی سرگرمیوں کا علم ہوتا ہے، مولانا نے لکھا ہے:

            ’’بحمد اللہ اکیڈمی میں مطلق جموو وتعطل نہیں ہوا، چند امور انجام پذیر ہوئے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

            (۱)گزشتہ سال راقم الحروف (مولانااکبر آبادی) نے حجۃ اللہ بالغہ کا درس دیا، یہ درس اس سال بھی شروع کرایا گیا؛لیکن چند وجوہات کی بناپر موقوف کردیاگیا۔

            (۲) راقم الحروف تاریخ القرآن کے نام سے ایک کتاب مرتب کررہا ہے، جس میں نزول قرآن جمع و ترتیب قرآن اور اس سے پیدا شدہ مسائل و مباحث پر تحقیقی گفتگو ہوگی امید ہے کہ تین چار مہینے میں یہ کتاب مکمل ہوجائے گی۔

            (۳) مولوی عتیق اللہ قاسمی کو صدیق اکبر کے ترجمہ کا کام سپرد کیا ہے امید کہ پانچ چھ مہینہ میں کام مکمل ہوجائے گا۔

            (۴) مجلس نے اکیڈمی کی طرف سے ایک سہ ماہی مجلہ کی بھی سفارش کی تھی جو عربی میں ہوگا اور اس کا نام ’’ا لدراسات ا لاسلامیہ‘‘ ہوگا، وہ کتابت کے مرحلہ میں ہے امید کہ شوال میں شائع ہوجائے گا۔

            (۵) راقم الحروف نے اکیڈمی کے بعض کام دوسرے حضرات کو بھی سپرد کیے ہیں ۔

            (الف) مولانا سعید احمد پالنپوری المغنی پر تحقیقی کام کررہے ہیں ۔

            (ب) مولانا حبیب الرحمن قاسمی کے سپرد یہ کام کیا ہے کہ وہ علماء و فضلاء دیوبند کی علمی خدمات پر ایک کتاب مرتب کردیں ، انہوں نے کام شروع کردیا ہے۔

            یہ کام تو وہ ہیں جو اس وقت اکیڈمی میں ہورہے تھے۔ ان کے علاوہ مولانا نے اکیڈمی کے لیے ایک منصوبہ بنایا ہے اس کے اہم اجزایہ ہیں ۔

            (۱) مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اکیڈمی کی طرف سے تاریخ الحدیث اور تاریخ الفقہ پر بھی تحقیقی کتابوں کا ایک سلسلہ مرتب کیا جائے۔

            (۲)حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کی بعض اہم کتابیں جو فارسی میں ہیں ان کا عربی میں ترجمہ کردیا جائے اور تحقیق و ترتیب کے موجودہ قواعد و ضوابط کے مطابق ان کو ایڈٹ کیا جائے؛ تاکہ دنیائے عرب حضرت شاہ صاحب کی ان کتابوں سے خاطر خواہ استفادہ کرسکے۔

            (۳) اکابر علماء دیوبند کی جو اہم کتابیں ہیں ان کو بھی ایڈٹ کرکے شائع کیا جائے‘‘۔

            شیخ الہند اکیڈمی سے مولانا کا تعلق والہانہ تھا وہ پوری دلچسپی اور انہماک کے ساتھ اکیڈمی کو ترقی دینے میں لگے ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ اکیڈمی ترقی کرتی رہے چنانچہ اس رپورٹ کے آخری حصہ سے مولانا کی جذباتیت اور والہانہ تعلق کا اندازہ ہوتا ہے مولانا لکھتے ہیں :

            ـ’’اس اکیڈمی کے امکانات بہت روشن ہیں دارالعلوم دیوبند جیسی مرکزی دینی درس گاہ میں اس کا قیام اور بقا بہت ضروری ہے یہ اکیڈمی اگر اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئی تو اس سے ان شاء اللہ دارالعلوم کو نہ صرف علمی فوائد حاصل ہوں گے؛ بلکہ دارالعلوم کی مالیات میں بھی اضافہ کا باعث ہوگی۔ مجھے افسوس ہے کہ میرا تعلق اس اکیڈمی سے ایسے وقت میں ہوا جب میں اپنی عمر اور صحت اور دوسری دماغی الجھنوں اور پریشانیوں کی وجہ سے اکیڈمی کی خدمت کا حق ادا نہیں کرسکتا؛ اس لیے حضرات اراکین شوریٰ سے درخواست ہے کہ وہ بجائے میرے کسی اور کو جو اس کی خدمت کا حق پورے طور پر ادا کرنے کے اہل ہوں ان کا انتخاب کرے  اگر یہ سردست ممکن نہ ہو تو کم از کم یہ ضرورت اراکین شوریٰ کے ذہن میں مستحضر رہنی چاہیے؛ کیونکہ جہاں تک راقم کی ذات کا تعلق ہے آثار وقرآئن اس قسم کے ہیں کہ زیادہ دنوں تک اس بوجھ کو نہیں اٹھا سکوں گا‘‘۔(۳)

            اس کے بعد آئندہ ہونے والی شوری میں پیش کردہ رپورٹ میں مولانا نے کار کردگی بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ الدراسات الاسلامیہ کا پہلا شمارہ شائع ہوگیا۔ دوسرا تیاری کے مراحل میں ہے‘‘۔ رپورٹ میں دیگر امور کو بیان کرتے ہوئے اخیر میں رقم طراز ہیں کہ’’ مفتی ظفیرالدین مفتاحی نے مولانا مناظر احسن گیلانی پر ایک کتاب لکھی ہے مولانا ظفیرالدین ایک کہنہ مشق اور پختہ قلم مصنف ہیں میں اس کتاب کے مسودہ کو برائے منظوری اشاعت شوریٰ کے سامنے پیش کررہا ہوں ‘‘۔(۴)

            مولانا کی پیش کردہ دونوں رپورٹ حسن کارکردگی ، فعالیت اور مولانا کی دلچسپی کی غماز ہیں ، وہ اخیر عمر تک اکیڈمی سے وابستہ رہے، اگرچہ ان کی مدت کار کردگی مختصر ہے مگر اس قلیل مدت میں ان کی کارکردگی اور منصوبے کافی بلند نظر آتے ہیں ، وہ بغرض علاج کراچی تشریف لے گئے تھے وہیں 3؍رمضان 1405ھ مطابق24؍ مئی1985ء کو اپنی زندگی کی 77بہاریں دیکھنے کے بعد دنیا سے رخصت ہوگئے۔

            مولانا سعید احمد اکبر آبادی برصغیر کی ایک بلند پایہ شخصیت، سابق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کے استاذ محترم، مدرسہ عالیہ کلکتہ کے پرنسپل، مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے روح رواں ندوۃ المصنّفین کے بانی، ماہنامہ برہان کے مدیر، ایک درجن کتابوں کے مصنف، منجھے ہوئے مقالہ نگار، دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ، شیح الہند اکیڈمی کے ڈائریکٹر، ملت کے بہی خواہ اور سچی تڑپ رکھنے والے تھے۔

            وہ شیخ الہند اکیڈمی کے معمار تھے آج بھی الحمد اللہ اکیڈمی ان کے قائم کردہ خطوط پر سرگرم سفر ہے اور اکابر رحمہم اللہ کے علمی سرمایہ کی حفاظت، ان کی ہمہ گیر خدمات پر عصر حاضر کے زندہ اسلوب میں تالیفات کی اشاعت، مسلک دارالعلوم اور دیگر اسلامی موضوعات پر تحقیقی کتابوں کی طباعت کے ساتھ اس شعبہ میں طلبہ کو تصنیف و تالیف، ترجمہ ومضمون نگاری کی تربیت بھی دی جاتی ہے، اب تک سیکڑوں طلبہ کی تربیت کے علاوہ مختلف موضوعات پر عربی و اردو میں تقریباً ساٹھ60 کتابیں شیخ الہند اکیڈمی سے شائع ہوچکی ہیں اور ان شاء اللہ یہ شعبہ آئندہ بھی مولانا کے قائم کردہ خطوط پر گامزن رہتے ہوئے ترقی کی منازل طے کرتا رہے گا۔

٭٭٭

حوالہ جات :

۱-            ماہنامہ دارالعلوم دسمبر82، جنوری83صفحہ21

۲-           رپورٹ کارروائی شوریٰ1982ء صفحہ12

۳-          ماخوذ از رپورٹ شیخ الہند اکیڈمی پیش کردہ مجلس شوری صفر1405ھ

۴-          ماخوذ از رپورٹ شیخ الہند اکیڈمی پیش کردہ مجلس شوریٰ1984

———————————————–

دارالعلوم ‏، شمارہ :3،    جلد:105‏،  رجب المرجب – شعبان المعظم 1442ھ مطابق   مارچ  2021ء

٭           ٭           ٭

Related Posts