از: مولانامحمد عبید اللہ قاسمی بہرائچی

استاذجامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد

            انسانی زندگی میں حسن اخلاق کو جو اہمیت وعظمت حاصل ہے وہ کسی سے پو شیدہ نہیں، ہر مذہب اور ہر دھرم کے لوگ ؛ بلکہ دنیا میں بسنے والا ہر انسان اچھے اخلاق و کردار اور اچھے برتاؤ کا قائل ہے اور یقینا کسی کو بھی اس سے انکار نہیں ہو سکتا ؛ کیوں کہ اخلاقی خوبیوں کو حاصل کرنا فطرت انسانی کااہم تقاضہ ہے ؛ بلکہ بنیادی ضروریات میں سے ہے، اس کے بغیر انسان میں انسانیت اور حسن وخوبی نہیں آتی، یہی وہ عظیم اور قابل قدر جوہر ہے جس کے ذریعہ معاشرے میں آپسی بھائی چارہ، اتحاد واتفاق، پیار و محبت، عفو و در گزر، رفق و نرمی اور توافق وہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے اور اسی طاقت کے ذریعہ آپسی اختلاف وانتشار، باہمی چپقلش ورنجش، نفرت و بعد، بڑی سے بڑی عداوت ودشمنی، بغض و کینہ، اور ہر طرح کے تضادات دور کیے جا سکتے ہیں،حسن اخلاق در حقیقت انسان کا زیوراور اس کا حسن وخوبصورتی ہے، اسی کے ذریعہ اجتماعی وانفرادی زندگیوں میں توازن اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور لوگوں کے دلوں پر فتح حاصل کی جاتی ہے ؛ جب کہ بد خلقی اور بدسلوکی سے تمام برائیاں : نفرت وعداوت، اختلاف وانتشار باہمی چپقلش و رنجش وغیرہ جنم لیتی ہیں اور اخلاق سے عاری ہو جانے کے بعد انسان لوگوں کی نظر میں عیب دار ہوجاتا ہے، اس کے پاس کوئی قابل قدر شی اور کوئی ایسی امتیازی صفت باقی نہیں رہتی جو اسے دیگر مخلوقات سے ممتاز کرے۔ گویا حسن اخلاق اور حسن سلوک انسانی زندگی کا قیمتی سرمایہ اور عظیم اثاثہ ہے ۔

حسن اخلاق کا معنی اور اس کی حقیقت

            آج کل لوگوں نے حسن اخلاق کے مفہوم کو بہت محدود اور خاص کر دیا ہے اور وہ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ حسن اخلاق کا مطلب صرف لوگوں سے خندہ پیشانی اور بشاشت کے ساتھ ملنا، مہربانی اور شفقت کا معاملہ کرنا، مسکرا کر بات کر لینااور ہمدردی کے الفاظ کہہ دیناہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اخلاق کا مفہوم بہت وسیع ہے اور اپنے اندر پوری انسانی زندگی کو سمیٹے ہوئے ہے، وہ صرف مذکورہ چیزوں ہی کو شامل نہیں ہے ؛ بلکہ اس کے بہت سے شعبے ہیں : شیریں و میٹھے بول، عفو و درگزر،رفق و نرمی،شفقت و مہربانی، انس و محبت، اکرام و اعزاز، حلم و بردباری، حیا و شرم، وسعت ظرفی و سخاوت، صلہ رحمی و حاجت روائی، تعاون و امداد، صبر و شکر، متانت و سنجیدگی، عدل و انصاف، امانت و دیانت، ماں باپ، بھائی بہن، عزیز و اقارب، بیوی بچے، یتیموں مسکینوں، پڑوسی، مسلمان اور غیر مسلم حتی کہ جانوروں اور پرندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک و حسن معاملہ وغیرہ، یہ تمام حسن اخلاق کے شعبے ہیں جن کی شریعت مطہرہ میں تعلیم دی گئی ہے اور ان تمام شعبوں میں اچھا رویہ اختیار کرنے والا ہی اچھے اخلاق کا حامل اور اس عظیم صفت سے متصف کہلانے کا مستحق ہوگا ۔حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اخلاق کے مفہوم میں وسعت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

 آج کل عرفِ عام میں ” اخلاق “ کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدمی دوسرے سے خندہ پیشانی سے پیش آئے، مسکراکر اس سے ملے اور نرمی سے بات کر لے، ہمدردی کے الفاظ اس سے کہہ دے، بس اسی کو اخلاق سمجھا جاتا ہے ۔ خوب سمجھ لیجیے کہ شریعت کی نظر میں ” اخلاق “ کا مفہوم بہت وسیع اور عام ہے، اس مفہوم میں بیشک یہ باتیں بھی داخل ہیں کہ جب انسان دوسرے سے ملے تو خندہ پیشانی سے ملے، اظہار محبت کرے اور اس کے چہرے پر ملاقات کے وقت بشاشت ہو، نرمی کے ساتھ گفتگو کرے ؛ لیکن ”اخلاق “ صرف اس طرز عمل میں منحصر نہیں ہے ؛ بلکہ ” اخلاق “ در حقیقت دل کی کیفیات کا نام ہے، دل میں جو جذبات اٹھتے ہیں اور جو خواہشات دل میں پیدا ہوتی ہیں، ان کا نام اخلاق ہے ۔ پھر اچھے اخلاق کے معنی یہ ہیں کہ انسان کے جذبات میں اچھی اور خوشگوار باتیں پیدا ہوتی ہوں اور برے اخلاق کے معنی معنی یہ ہیں کہ اس کے دل میں خراب جذبات اور غلط خواہشات پیدا ہوتی ہوں ۔ (اصلاحی خطبات، ۱۵/۸۵، میمن اسلامک پبلشر کراچی)

 حسن اخلاق قرآن کی روشنی میں

            اور حسن اخلاق کی قدر وقیمت اس وقت مزید دو چندہو جاتی ہے جب ہم اسے اسلام اور شریعت کی نظرسے دیکھتے ہیں ؛ کیوں کہ قرآن وسنتمیں اس کی بڑی اہمیت وارد ہوئی ہے ۔ اللہ تبارک وتعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ﴿وإِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ﴾ (القلم:۴) ترجمہ : اور بیشک آپ (ﷺ)اخلاق( حسنہ) کے اعلی پیمانے پر ہیں ۔ ( بیان القرآن) اس آیت میں اللہ رب العزت نے دین اسلام، شریعت مطہرہ اور قرآنی تعلیمات کو خلق عظیم فرمایا ہے، گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی ایک ایک آیت کا عملی نمونہ ہیں ۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی لکھتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا :کہ خلق سے مراد دین عظیم ہے کہ اللہ کے نزدیک دین اسلام سے زیادہ کوئی محبوب دین نہیں ہے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کہ آپ کا خلق خود قرآن ہے یعنی قرآن کریم جن اعلی اعمال واخلاق کی تعلیم دیتا ہے آپ ان سب کا عملی نمونہ ہیں ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا : کہ خلق عظیم سے مراد آداب القرآن ہیں یعنی وہ آداب جو قرآن نے سکھائے ہیں حاصل سب کا تقریباً ایک ہی ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود میں حق تعالی نے تمام ہی اخلاق فاضلہ بدرجہ کمال جمع فرما دیے تھے۔ ( معارف القرآن، ۸/۵۳۲، مکتبہ معارف القرآن کراچی)

            اسی طرح جب صحابہ رضی اللہ عنہم سے غزوئہ احد میں مقررہ اور متعینہ جگہ چھوڑنے کی جو خطا اور لغزش صادر ہوئی، جس کی وجہ سے جنگ کی فتح شکست سے بدل گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو روحانی اور جسمانی تکلیف بھی پہنچی اور غم اور صدمہ بھی لاحق ہوا، اس کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ پر اپنے طبعی اخلاق وعادات اور عفو کرم کی بنیاد پر کوئی ملامت اور سختی نہیں کی، آپﷺ کی اسی شان کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا : ﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ اْلقَلْبِ لاَنْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ وَشَاوِرْہُمْ فِيْ الأَمْرِ﴾ (آل عمران:۱۵۹) ترجمہ : بعد اس کے خدا ہی کی رحمت کے سبب آپ ان کے ساتھ نرم رہے اور اگر آپ سخت زبان، سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے پاس سے سب منتشر ہو جاتے، سو ان کو معاف کر دیجیے آپ ان کے لیے استغفار کیجیے اور ان سے خاص خاص باتوں میں مشورہ لیتے رہا کیجیے (تاکہ اس سے اور دونا ان کا جی خوش ہو جائے)( بیان القرآن)آپ ﷺ کے اس حسن اخلاق، عفو ودرگزر اور نرم طبیعت ہونے کی وجہ سے صحابہ کو آپﷺ سے اور زیادہ محبت اور انسیت ہو گئی ۔

            اللہ تعالی حضورﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ“ (الأعراف:۱۹۹) ترجمہ : اے محمدﷺ آپ معافی کو اختیار کیجیے، بھلی باتوں کا حکم کیجیے اور جاہلوں سے منھ پھیرلیجیے!

            اللہ تعالی فرماتے ہیں : ”فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاصْفَحْ إنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ“ (المائدة: ۱۳) ترجمہ : تو آپ (ﷺ) ان کو معاف کیجیے اور درگزر سے کام لیجیے۔بیشک اللہ تعالی نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔

            اللہ تعالی فرماتے ہیں : ”وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا أَلاَ تُحِبُّوْنَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ“(النور:۲۱) ترجمہ : اور چاہیے کہ لوگ معاف کریں اور درگزر سے کام لیں، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمھاری مغفرت فرمائے۔

            اللہ تعالی فرماتے ہیں: ”وَاصْبِرْعَلیٰ مَا أَصَابَکَ إِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الأُمُوْرِ“(لقمان:۱۷) ترجمہ : اور برداشت کیجیے ان (تکلیفوں) کو جو آپ کو پیش آئیں ۔ بیشک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے ۔

            اللہ تعالی فرماتے ہیں: ”وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ الْنَّاسِ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمِحْسِنِیْنَ“ (آل عمران:۱۳۴) ترجمہ : اور غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے اور اللہ تعالی نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔

            مذکورہ بالا آیات اور اس طرح کی دیگر آیات میں اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو عفو و درگزر کرنے کا حکم فرمایا ہے، صابرین اور کاظمینِ غیض کی تعریف فرمائی ہے اور اسے ہمت کے کاموں میں سے بتایا ہے اور یہ سب حسنِ اخلاق کے مختلف شعبے ہیں ۔

 حضور ﷺ کے محاسن اخلاق

            حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اخلاق حسنہ، حسن معاشرت، عمدہ طرز زندگی اور زندگی کے ہر شعبہ میں اچھے برتاو اور حسن سلوک کا عمدہ نمونہ اور عملی پیکر ہے، حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاق حسنہ کی تعلیم، ترویج واشاعت اوراس کی دعوت وتبلیغ کو اپنی بعثت کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے فرمایا : ”بُعِثْتُ ِلأُتَمِّمَ حُسْنَ الأخْلَاق“ (الموطا للإمام مالک، ص:۷۰۵)یعنی میری بعثت ہی اس لیے ہوئی ہے کہ میں حیاتِ انسانی میں اخلاقِ حسنہ کے فضائل کی تکمیل کروں اوراسے کمال اور عروج پر پہنچاؤں؛ چنانچہ آپ ﷺنے امت کو اخلاقِ فاضلانہ و کریمانہ سے متصف اور مزین کرنے کے لیے عملی نمونہ بھی پیش کیا اور مختلف مواقع پر قولی تعلیم بھی دی ۔

            امام غزالی رحمہ اللہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ” احیاء العلوم “ میں حضورﷺ کے بہت سارے محاسن اخلاق کو بڑے ہی عمدہ انداز میں بیان کیا ہے جن میں سے چند درج ذیل ہیں :

آپ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ بردبار، سب سے زیادہ بہادر، سب سے زیادہ انصاف پسند، سب سے زیادہ پاکدامن اور سب سے زیادہ سخی تھے؛ یہاں تک کہ کوئی رات ایسی نہیں آتی جس میں آپ ﷺ کے پاس کوئی درہم دینار بچتا ہو( رات آنے سے ہی پہلے سب خرچ کر ڈالتے تھے )اور اگر کبھی کچھ درہم یا دینار بچ جاتا اور اسی حالت میں رات آ جاتی تو آپ ﷺ اس وقت تک گھر تشریف نہ لے جاتے جب تک اسے کسی ضرورت مند کو دے کر فارغ نہ ہو جاتے ۔آپ ﷺ اتنے با حیا تھے کہ اپنی نظریں کسی چہرے پر نہیں جماتے تھے، خود ہی اپنا نعل مبارک سی لیتے، کپڑوں میں بیوند خود ہی لگا لیا کرتے، گھریلو کام کاج میں بیویوں کا تعاون فرماتے، غلام اور آزاد سب کی دعوت قبول فرماتے، ہدیہ قبول فرماتے خواہ دودھ کا ایک گھونٹ ہو یا خرگوش کی ران ہی کیوں نہ ہو، باندیوں اور مسکینوں کی حاجت روائی میں تکبر نہیں فرماتے، ولیمہ کی دعوت قبول فرماتے، بیماروں کی عیادت کرتے، جنازوں میں تشریف لے جاتے، فقراء کے ساتھ بیٹھتے، مسکینوں کے ساتھ کھانا تناول فرماتے، مزاح فرماتے ؛ لیکن سچ بولتے، ہنستے؛ لیکن قہقہہ نہ لگاتے، با اخلاق لوگوں کی عزت کرتے، کسی پر ظلم نہ کرتے، معذرت خواہ کا عذر قبول فرماتے، کسی کو حقیر نہ جانتے اور نہ ہی کسی پر برتری اختیار فرماتے۔ خلاصہ یہ کہ اللہ تبارک و تعالی نے آپ ﷺ کی ذات اقدس میں تمام محاسن اور خوبیان جمع کر دی تھیں۔(المستفاد: احیاء العلوم، ۴/۷۱۱،ط: دارالمنہاج السعودیة جدة)

حسن اخلاق احادیث کی روشنی میں

            حضورﷺ کے نزدیک حسن اخلاق کی اتنی اہمیت تھی کہ اپنے لیے حسن اخلاق کی دعائیں کیا کرتے تھے: ”اللّٰہمّ أحسنت خلقي فأحسن خلقي“(رواہ احمدفي المسند،۱/۴۰۳) ترجمہ: اے اللہ تو نے میری بناوٹ کو سنواراہے، تو میرے اخلاق بھی سنوار دے اور بدخلقی سے بچنے کی بھی توفیق مانگتے تھے اور یہ دعا کرتے۔ ”اللّٰہم إني أعوذُ بِکَ مِنْ مُنْکَراتِ الأخلاقِ والأعمالِ والأہواء“(رواہ الترمذي، رقم الحدیث:۳۵۹۱)ترجمہ : اے اللہ میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں برے اخلاق، برے اعمال اور بری خواہشات سے۔

            آپ ﷺ نے متعدد احادیث میں بھی حسن اخلاق کی اہمیت وفضیلت کو امت کی تعلیم کے لیے بیان فرمایا ہے؛ چنانچہ بخاری کی روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إنَّ مِنْ أَخْیَرِکُمْ أَحْسَنَکم خُلْقًا․( رواہ البخاري، رقم: ۶۰۲۹) ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سب میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے سب سے قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہونگے۔(ترمذی، رقم:۲۰۱۸)

            ایک دوسری حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ”إنّ المؤمنَ لَیُدْرِکُ بِحُسنِ خُلقہ درجةَ الصائمِ القائم“․ (رواہ أبوداؤد، باب في حسن الخلق، رقم:۴۷۹۸)ترجمہ : موٴمن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے روزہ رکھنے والے اور رات بھر عبادت کرنے والے کے درجہ کو حاصل کر لیتاہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا غیروں کے ساتھ برتاؤ

            حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنوں سے تو پیار و محبت اور شفقت و ہمدردی کے ساتھ ملتے ہی تھے، جس کی بے شمار مثالیں ہیں، غیر بھی آپ کے رحم وکرم، عفو و درگزر اور خوش خلقی سے محروم نہ رہے ۔اس کی ایک عظیم مثال فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺکا کفار مکہ کے لیے عام معافی کا اعلان کرنا ہے ؛ چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں فاتحانہ انداز میں شان وشوکت کے ساتھ داخل ہوئے، تو کفار و مشرکین جنھوں نے ہر قدم پر آپ کو اور آپ کے صحابہ کو تکلیفیں پہنچائی تھیں، جو آپ کے جانی دشمن تھے، آپ کے قتل کی تدبیریں اور سازشیں کرتے تھے اورجنھوں نے اسلام دشمنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، وہ سہمے ہوئے تھے، انھیں سزائے موت کا یقین تھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی یہی خیال کر رکھا تھا ”الیوم یوم الملحمة “ آج بدلے کا دن ہے، آج جوشِ انتقام کو سرد کرنے کا دن ہے ؛ لیکن تاریخ نے دیکھا اور اسے نوٹ کیا کہ رحمت دو جہاں کے پیکر اور محسن انسانیت ﷺکی شفقت نبوی جوش میں آئی اور زبان رسالت سے یہ اعلان کر دیا ”لا تثریب علیکم الیوم واذہبوا فأنتم الطلقاء“ کہ جاؤ آج تم سب آزاد ہو، تمھیں معاف کر دیا گیا، تم پر کوئی جرم نہیں ہے اور تم سے کسی قسم کا بدلہ نہیں لیا جائے گا ۔یہ تھا آپ صلی اللہ علی وسلم کا جانی دشمنوں کے ساتھ برتاؤ اور حسن سلوک، جس کی مثال پیش کرنے سے دنیا عاجزہے ۔اور اس سلوک اور برتاؤ کی وجہ سے فتح مکہ کے موقع پر بکثرت لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ #

سلام اس پر کہ جس نے دشمنوں کو معاف فرمایا

سفر طائف میں لوگوں کا برتاؤ اور حضور ﷺ کا طرز عمل

            جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت و تبلیغ کے لیے طائف کا سفر کیا اور وہاں کے سرداروں کو توحید کی دعوت دی تو وہ لوگ بڑی بے رخی اور ذلت کے ساتھ پیش آئے، پھر آپ ﷺ نے اور لوگوں سے بھی گفتگوفرمائی ؛ لیکن انھوں نے بجائے قبول کرنے کے یہ کہا کہ ہمارے شہر سے نکل جاؤ اور اسی پر بس نہیں کیا ؛ بلکہ انھوں نے شہر کے اوباش لڑکوں کو پیچھے لگادیا کہ وہ آپ کا مذاق اڑائیں، تالیاں بجائیں اور پتھریں ماریں، حتی کہ آپ ﷺ کے دونوں جوتے خون کے جاری ہونے سے رنگین ہو گئے، ان سب کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غلط نہیں ٹھرایا، ان کو برا بھلا نہیں کہا؛ حتی کہ جب پہاڑوں کا فرشتہ آپ کے پاس آیا اور سلام کے بعد عرض کیا : اگر ارشاد ہو تو دونوں جانب کے پہاڑوں کو ملا دوں جس سے یہ سب درمیان میں کچل جائیں یا جو سزا آپ تجویز فرمائیں ۔ حضور ﷺ نے ان کے لیے عقاب اور سزا تجویز نہیں کی ؛ بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا : میں اللہ کی ذات سے امید رکھتا ہوں کہ اگر یہ مسلمان نہیں ہوئے، تو ان کی اولاد میں ایسے لوگ پیدا ہوں، جو اللہ کی عبادت کریں۔

            حضرت شیخ الحدیث مولانا محمدزکریاکاندھلوی ”فضائل اعمال“ میں سفر طائف کا قصہ نقل کرنے کے بعد فائدہ کے تحت لکھتے ہیں :

            ”یہ ہیں اخلاق اس کریم ذات کے جس کے ہم لوگ نام لیوا ہیں کہ ہم ذرا سی تکلیف سے، کسی کے معمولی سی گالی دے دینے سے ایسے بھڑک جاتے ہیں کہ پھر عمر بھر اس کا بدلہ نہیں اترتا، ظلم پر ظلم اس پر کرتے رہتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں اپنے محمدی ہونے کا، نبی کے پیرو بننے کا، نبی کریم ﷺ اتنی سخت تکلیف اور مشقت اٹھانے کے باوجود نہ بددعا فرماتے ہیں نہ کوئی بدلہ لیتے ہیں“۔( فضائل اعمال، ۱/۲۳، ط : ادارہ دینیات ممبئی)

ایک بدزبان یہودی کا واقعہ

            زید بن سعنہ یہودی سے کسی موقع پر آپﷺ نے قرض لیا تھا، وہ یہودی وقت مقررہ سے تین دن پہلے ہی قرض کا تقاضہ کرنے لگا اور بڑے گستاخانہ انداز میں شانہٴ مبارک سے چادر کھینچتے ہوئے بدزبانی شروع کردی اور کہنے لگا تم بنی عبد المطلب بڑے وعدہ خلاف ہو۔ اس کی بدکلامی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہیں موجود تھے، ان سے برداشت نہیں ہوا، انھوں نے جھڑک کر اسے روکنا چاہا، تو حضورﷺ نے انھیں روک کرفرمایا : اے عمر ! تم نے ہم دونوں سے وہ طرز عمل نہیں اختیار کیا جو ہونا چاہیے تھا، مناسب یہ تھا کہ تم اسے جھڑکنے کے بجائے مجھے ادائے قرض اور وعدہ پورا کرنے کی تلقین کرتے اور اسے حسن طلب اور نرمی سے تقاضا کرنے کی ہدایت کرتے، اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ یہودی کا قرض ادا کریں اور اسے مزید بیس صاع جو دیں۔

            اس طرز عمل اور عفو و درگزر کو دیکھ کر یہودی بہت متاثر ہوا اور مسلمان ہو گیا ۔ روایتوں میں آتا ہے کہ یہودی کہا کرتا تھا کہ نبی آخر الزماں میں مجھے ساری نشانیاں معلوم تھیں ؛ لیکن دو باتوں کو میں نے آزمایا نہیں تھا : ایک یہ کہ آپ کا حلم آپ کے غصہ سے زیادہ ہے، دوسرے یہ کہ ان پر جتنی سختی کی جائے اتنی ہی نرمی اور مہربانی بڑھتی چلی جاتی ہے، ان دو علامتوں کو بھی میں نے دیکھ لیا، اب آپ کی رسالت پر مجھے کوئی شک نہیں ۔(مستفاد: المہذب : ۴/۲۱۷۸)

عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا واقعہ

            سیرت ابن ہشام میں پورا قصہ ابن اسحاق کے حوالے سے مذکور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مذہب عیسائیت کے پیروکار تھے،اپنے قبیلہ کے سردار تھے اور قبیلہ بنی طے سے ایک چوتھائی مال غنیمت وصول کرکے گزر بسر کرتے تھے ۔ان کا بیان ہے کہ جب کسی نے مجھے محمد بن عبد اللہ ( حضور ﷺ)کے بارے میں بتایا، تو ان کا نام سنتے ہی مجھے شدید نفرت محسوس ہوئی اور جب ان کی فوجیں مدینہ کے اردگرد علاقوں میں نکلنے لگیں، تو مجھے فکر ہونے لگی اور میں نے اپنے ایک عربی غلام سے کہا : تیرا بھلا ہو ! میرے لیے موٹے تازے تیز رفتار ا ونٹوں کا ایک گلہ تیار رکھنا، جوں ہی محمد (ﷺ) کے لشکروں کی خبر پہنچے، مجھے مطلع کردینا۔ ایک دن وہ دوڑتا بھاگتا ہوا میرے پاس آیا اور کہا : محمد(ﷺ) کے لشکر آگئے ہیں، یہ سنتے ہی میں اہل و عیال کو اونٹ پر بٹھا کر اور ضروری ساز و سامان لے کر ملک شام کی جانب اس خیال سے چل دیا کہ وہ میرے ہم مذہب ہیں اور اس بھگدڑ میں میری بہن سفانہ پیچھے رہ گئی جو روانگی کے وقت کسی ضروری کام سے کہیں گئی ہوئی تھی۔

            اسلامی فوج بنوطے کو شکست دے کر بہت سی عورتوں اور بچوں کو قید کرکے مدینہ لے گئی، ان قیدیوں میں میری بہن سفانہ بنت حاتم بھی تھی اور ان سب کو مسجد کے قریب احاطہ میں رکھا گیا ۔ ایک دن رسول اللہﷺ وہاں سے گزرے، تو وہ کھڑی ہوگئی اور کہا : ”یا رسول اللّٰہ! ہلک الوالد و غاب الوافد فامنن عليّ منّ اللّٰہ علیک“ یعنی یا رسول اللہ ! میرا باپ فوت ہو گیا اور سرپرست بچھڑ گیا، آپ مجھ پر احسان فرمائیں، اللہ آپ پر احسان فرمائیں گے ۔آپ ﷺ نے پوچھا تمھارا سرپرست کون ہے، انھوں نے جواب دیا : عدی بن حاتم ۔آپﷺ نے پوچھا : کیا وہی جو اللہ اور اس کے رسول سے دور بھاگتا ہے ؟ یہ کہہ کر آپﷺ چلے گئے،دوسرے دن بھی جب بھی آپ ﷺ کا قیدیوں کے پاس سے گزر ہوا، تو مذکورہ سوال و جواب ہوئے اور تیسرے دن جب سفانہ بنت حاتم نے درخواست دہرائی تو حضورﷺ نے فرمایا : میں نے تم پر احسان کیا اور تم سب کو آزادی دے دی ہے، جاتے وقت انھوں نے آپ ﷺ کو اطلاع دی تو آپ ﷺنے جوڑا عنایت فرمایا، سواری اور سفر خرچ وغیرہ دے کر اعزاز و اکرام کے ساتھ رخصت کیا ۔

            حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں اپنی بہن کے حوالے سے بہت پریشان تھا اور اسی فکر میں رہتا تھا، ایک دن وہ شام کے قافلے کے ساتھ میرے پاس ملک شام آپہنچی اور پہنچتے ہی مجھے کوسنا شروع کردیا کہ قطع رحمی کرنے والے ظالم تو نے اپنے بال بچوں کے ساتھ راہ فرار اختیار کر لی اور اپنے باپ کی بیٹی اور اس کی عزت کو چھوڑ آیا ۔ معافی تلافی کے بعد میں نے اس سے پوچھا : تم نے اس شخص ( محمدﷺ) کو کیسا پایا اور اس کے بارے میں تمھاری کیا رائے ہے ؟ اس نے جواب دیا میری رائے یہ ہے کہ تم فوراً اس کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ۔ اگر یہ شخص اللہ کا نبی ہے، تو اس کی جانب جلدی جانا باعث فضیلت ہے اور اگر وہ بادشاہ ہے، تو لوگوں کی قدر کرنا جانتا ہے، اس کے یہاں عزت والوں کو ذلیل نہیں کیا جاتا اور تمھارا مقام و مرتبہ ہرایک جانتا ہے ۔

            میں نے اس کی رائے پر مدینہ کا رخ کیا ۔ مدینہ پہنچا تو حضورﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے، میں نے سلام کیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا : کون؟ میں نے کہا : عدی بن حاتم طائی ۔آپ ﷺ نے میرا پرجوش استقبال کیا اور مجھے اپنے گھر لے گئے، راستے میں ایک کمزور بوڑھی عورت نے انھیں روک لیا، آپ ﷺ دیر تک اس کی باتیں سنتے رہے اور وہ اپنی مشکلات اور ضروریات بیان کرتی رہی۔ میں نے اپنے دل میں کہا : خدا کی قسم یہ بادشاہ تو نہیں ہیں ۔پھر گھر پہنچ کر آپﷺ نے کھجور کے پتوں سے بھرا ہوا چمڑے کا گدا میری طرف بڑھایا اور فرمایا : اس کے اوپر بیٹھ جاؤ، میں نے کہا: نہیں، آپ اس پر تشریف رکھیں ؛ مگر آپ نے حکم دیا : تم اس پر بیٹھو ۔میں گدے پر بیٹھ گیا اور رسول اللہ ﷺ زمین پر تشریف فرما ہوئے۔اب میں نے پھر دل میں کہا : خدا کی قسم یہ تو بادشاہوں والا معاملہ نہیں ہے ۔آپﷺ نے فرمایا : اے عدی ! کیا تو رکوسی ( ایک مذہبی گروہ)فرقہ سے تعلق نہیں رکھتا ؟میں کہا : جی ہاں ! میں رکوسی ہوں۔آپﷺ کا دوسرا سوال تھا : کیا تم اپنی قوم سے مال غنیمت کا چوتھا حصہ وصول نہیں کرتے تھے ؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں ۔ آپﷺ نے فرمایا : یہ وصولی تمھارے دین کے مطابق حلال نہ تھی ؟ میں نے کہا: جی ! آپ کا فرمان درست ہے ۔اب میں بخوبی جان گیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں ؛کیوں کہ جو باتیں عربوں کو بالکل معلوم نہیں تھیں، آپ ان سے واقف ہیں ۔ پھر آپﷺ نے ایک چبھتا ہوا سوال پوچھا کہ اے عدی ! شاید دین اسلام میں داخل ہونے سے یہ امر مانع ہے کہ مسلمانوں کی مالی حالت بہت کمزور ہے ؟ خدا کی قسم مال و دولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ دینے والے سبھی ہوں گے اور لینے والا کوئی نہ ہوگا اور شایدیہ بات بھی مانع ہو کہ یہ لوگ تعداد میں بہت کم ہیں اور پوری دنیا ان کی دشمن ہے ؟ خدا کی قسم دین کا غلبہ اس طرح ہوگا کہ تو سنے گا اور دیکھے گا کہ ایک خاتون زیورات سے لدی تن تنہا اپنے اونٹ پر سوار ہو کر قادسیہ سے سوار ہوگی اور حج بیت اللہ کے لیے مکہ کا سفر کرے گی اور اسے کوئی خطرہ نہ ہوگا ۔ اے عدی ! ممکن ہے کہ تو نے سوچا ہو دنیا میں بہت سے بادشاہ اور سلاطین ہیں اور ان لوگوں میں کوئی تاجدار نہیں ہے ۔ بخدا توسن لے گا کہ بابل کے سفید محلات ان لوگوں کے ہاتھوں فتح ہو جائیں گے، قیصر و کسری ہلاکت سے دوچار ہوں گے اور کوئی کسری پھر اس تخت پر نہ بیٹھے گا۔

            عدی کہتے ہیں یہ سن کر میں نے اسلام قبول کر لیا اور وہ کہا کرتے تھے کہ میں نے دو باتیں دیکھ لی ہیں : بابل کے محلات بھی فتح ہو چکے ہیں اور قادسیہ سے تنہا سفر کرنے والی عورت بھی میں نے دیکھی ہے، میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تیسری بات بھی ضرور پوری ہوگی اور صدقہ وخیرات لینے والا کوئی نہ ہوگا ۔ ( مستفاد : سیرت ابن ہشام، قدوم عدی بن ابي حاتم، ۴/ ۲۲۰، ط: دارالکتاب العربي )

            اس پورے واقعہ پر نظر ڈالیں تو اس میں حضورﷺ کے حسن اخلاق کی حسین اور خوبصورت تصویر موجود ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عدی رضی اللہ کی بہن کے ساتھ کیسا اچھا برتاؤ کیا کہ انھیں صرف آزاد ہی نہیں کیا ؛ بلکہ اعزاز و اکرام کے ساتھ جوڑا عنایت فرماکر اور سواری اور سفر خرچ کا انتظام کرکے رخصت کیا ۔پھر حضرت عدی رضی اللہ عنہ کی آمد پر ان کا پرجوش استقبال کیا اورصرف اتنا ہی نہیں؛ بلکہ انھیں اپنے گھر لے گئے اور خود زمین پر بیٹھ کر انھیں گدے پر بٹھایا ۔آپ ﷺ کے انھیں اخلاق اور برتاؤ سے متاثر ہو کر انھوں نے اسلام کا دامن تھاما۔

            غرض یہ کہ زندگی کے ہر شعبہ میں اور ہر طرح کے افراد کے ساتھ حضورﷺ کے حسنِ اخلاق اور عمدہ حسنِ معاشرت کی مثالیں بھری پُری ہیں؛ حتی کہ بے زبان جانوروں اور پرندوں کے ساتھ بھی اچھے سلوک کی تعلیم دی ہے اورمختلف قسم کی احادیث میں آپﷺ نے امت کوبھی اسی کی تعلیم دی ہے؛چنانچہ اسی تعلیم کی بدولت اور مسلمانوں کے عمدہ اخلاق اور حسن معاشرت کو دیکھ کر بے شمار لوگ دامن اسلام میں داخل ہوئے، اور حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور یہ ایک بدیہی اور واضح حقیقت ہے کہ پوری دنیا میں اسلام کی نشر واشاعت میں اچھے اخلاق کا بڑا اہم رول ہے؛ لیکن بدقسمتی سے آج مسلمانوں کے اندر سے یہ صفت بالکل معدوم سی ہو گئی ہے۔ تاجر ہو یا کاشتکار، ڈاکٹر ہو یا انجینئر، استاد ہو یا شاگرد، ملازم ہو یا نوکر،مزدور ہو یا مستری اور مرد ہو یا عورت سبھی کسی نہ کسی درجہ میں بداخلاقی کا شکار ہیں ؛ جب کہ حسن خلق فطری تقاضہ ہونے کے ساتھ اسلامی تعلیمات کا بھی بہت اہم حصہ ہے اور بے شمار فضائل قرآن واحادیث میں خوش خلقی پر وارد ہوئے ہیں ۔دوسری طرف غیروں کے اخلاق، سلوک اور رویے میں نسبتاً بہت بہتری ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ ؛بلکہ مسلمان بھی غیروں کی دکانوں پر سامان لینے کے لیے جانا اور ان سے معاملات کرنا پسند کرتے ہیں، جب کہ مسلمانوں کی بدخلقی کی وجہ سے مسلمان بھی ان کی دکانوں سے کتراتے ہیں اوران سے معاملات کرنا گوارہ نہیں کرتے ؛چنانچہ غیرلوگ ترقی کرتے جا رہے اور مسلمان محنت کرنے کے باوجو بھی د ن بدن پستی کی طرف جا رہے ہیں۔

             اور مسلمانوں کی اسی بد خلقی، فریب، دھوکہ دہی، خیانت اور معاملات وغیرہ میں صفائی نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے مذاہب کے لوگ اسلام سے بدظن ہو رہے ہیں، گویا مسلمان اسلام کی طرف دعوت دینے کے بجائے جانے انجانے لوگوں کے قبول اسلام میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور یہ کتنی بڑی بد نصیبی اور کتنا بڑا جرم ہے!! ۔

            اللہ تبارک وتعالی ہم سب کو اور تمام امت مسلمہ کو خوش خلقی، حسن اخلاق، حسن معاملہ، صلہ رحمی، وسعت ظرفی اور حسن معاشرت جیسی عظیم صفات سے متصف و مزین فرمائے اور زندگی کے تمام شعبوں میں انھیں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے!آمین

—————————————–

دارالعلوم ‏، شمارہ : 10،  جلد:106‏،  ربیع الاول 1444ھ مطابق اكتوبر  2022ء

٭        ٭        ٭

Related Posts