عصرِ حاضر کی جامع کمالات شخصیت استاذ الاساتذہ حضرت مولانا ریاست علی صاحب بجنوریؒ

از: مولانا مفتی ریاست علی قاسمی رام پوری

استاذ حدیث جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد، امروہہ

موت وحیات اس کائنات کی فطرت میں داخل ہے، ذات باری کے علاوہ ہر شے فانی اور اس کا وجود عارضی ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض انسانوں کا وجود مخلوق خداوندی کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان اور ضرر پہنچاتا ہے اور ان کے جانے سے کسی کو افسوس اور حزنِ وملال نہیں ہوتا ہے؛ لیکن انسانوں میں بعض اشخاص وافراد بے شمار مخلوق خداوندی کونفع اور فائدہ پہنچانے والے ہوتے ہیں اور خلقِ کثیر کی نفع رسانی کا وہ سبب اور ذریعہ ہوتے ہیں، فیض رسانی کے مختلف اور متعدد ذرائع اور ابواب ان سے متعلق ہوجاتے ہیں۔ ایسے افراد کے دنیا سے رخصت ہوجانے پر بے شمار انسانوں کوافسوس اور غم ہوتا ہے؛ کیونکہ خیر کے متعدد ابواب ایسی شخصیات کے رحلت ہوجانے سے مسدود ہوجاتے ہیں اور خلقِ کثیر کی نفع رسانی اور فیض رسانی کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے۔

ایسی ہی صاحب عظمت اور بافیض شخصیات میں ہمارے موٴقر، محترم، مشفق استاذ، پدرروحانی، بے شمار اوصاف اور کمالات سے متصف، دارالعلوم دیوبند کے عظیم محدث، صاحبِ طرز ادیب حضرت اقدس مولانا ریاست علی ظفربجنوری نَوَّرَاللہُ مرْقَدَہ کی ذاتِ گرامی بھی ہے جو گذشتہ روز بے شمار متعلقین، اعزہ،اقرباء، تلامذہ،فرزندان دارالعلوم دیوبند اور محبانِ دارالعلوم دیوبند کو روتا، بلکتا چھوڑ کر چلے گئے۔ انَّا للہِ وانا الیہ راجعون، ان لِلہِ مَا أَعْطٰی وَلَہ مَا أَخَذَ وَکُلُّ شَيْءٍ عِنْدَہ بِأجَلٍ مُسَمّٰی․

آسما ں تیر ی  لحد پہ شبنم افشانی کرے

سبزہٴ نورستہ اس گل کی نگہبانی کرے

دارالعلوم دیوبند میں داخلہ

آپ ۱۹۵۱/ کے اواخر میں اپنے پھوپا حضرت مولانا سلطان الحق صاحب فاروقی قدس سرہ کے ہمراہ دیوبند تشریف لائے اور دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لے کر فارسی اور ابتدائی عربی سے لے کر دورئہ حدیث تک تعلیم حاصل کی اور تمام ہی کتبِ درسیہ از اوّل تا آخر اساتذہٴ دارالعلوم سے پڑھیں۔ ۱۹۵۸/ میں دورہٴ حدیث شریف سے فراغت پائی۔

ایضاح البخاری کی ترتیب واشاعت

فراغت کے بعد تقریباً تیرہ سال تک اپنے مربی ومشفق استاذ فخرالمحدثین حضرت مولانا سید فخرالدین صاحب نوراللہ مرقدہ کی تربیت میں رہے اور اپنے استاذ کے درسِ بخاری میں شرکت فرماکر آپ کی تقاریر درس بخاری کو قلم بند فرماتے رہے اور متعدد سالوں کے دروس بخاری کی تقاریر علیحدہ علیحدہ محفوظ رکھتے رہے، پھر اپنے استاذ گرامی کی اجازت ومشورہ سے اس کو مرتب کرکے شائقین علوم حدیث کے استفادہ کے لیے شائع کرنے کا سلسلہ شروع فرمادیا، جس کا طریقہ کار یہ تھا کہ تمام سالوں کی تقاریر کو سامنے رکھ کر نیز شروح بخاری اور متعلقہ کتب کا مطالعہ فرماکر ایک مقالہ مرتب کیا جاتا تھا پھر حضرت مولانا لقمان الحق صاحب فاروقی بجنوری سابق استاذ دارالعلوم دیوبند اس کی مراجعت فرماتے تھے پھر حضرت فخرالمحدثین پوری تقریر ازخود سماعت فرماتے اور اس کی اصلاح کراتے یا بعض دفعہ مسودہ اپنے پاس رکھ لیتے اوراپنے قلم سے اصلاح کرتے تھے۔ حضرت فخرالمحدثین نوراللہ مرقدہ کی حیاتِ طیبہ میں تقریباً تیرہ سو صفحات کا مسودہ نظرثانی اور تصحیح اور حضرت کی اصلاح کے بعد منصہ شہود پر جلوہ نما ہوا اور شائقین علوم نبوت اس سے استفادہ کرنے لگے؛ لیکن حضرت کی حیاتِ طیبہ میں اس بابرکت کام کی تکمیل نہ ہوسکی اور حضرت فخرالمحدثین نوراللہ مرقدہ چند ماہ کی علالت کے بعد ۲۰/صفر ۱۳۹۲ھ مطابق ۵/اپریل ۱۹۷۲/ کو دارالعلوم دیوبند کی مسند حدیث، منصب صدارت تدریس کو چھوڑ کر اپنے مولائے حقیقی سے جاملے اور حضرت کے وصال کے بعد بھی حضرت مولانا لقمان الحق صاحب فاروقی نوراللہ مرقدہ کی معاونت اور اشتراک سے ”ایضاح البخاری“ کی ترتیب وتسوید کا مبارک سلسلہ چلتا رہا اور قسط وار اس کی اشاعت بھی ہوتی رہی۔ پھر ۱۴۰۸ھ میں حضرت مولانا لقمان الحق فاروقی نوراللہ مرقدہ کے وصال کے بعد تنہا حضرت الاستاذ مولانا ریاست علی صاحب نوراللہ مرقدہ کی ذات گرامی ہی اس مبارک سلسلہ کے تمام مراحل (ترتیب، تسوید،مراجعت، کتابت،تصحیح، طباعت اور اشاعت) کو انجام دینے لگی؛ لیکن دارالعلوم دیوبند کے تدریسی اور انتظامی امور میں بے پناہ مشغول رہنے کی وجہ سے اس کام میں قدرے سستی اور تاخیرہوتی رہی، بالآخر حیات مبارکہ کے آخری سالوں میں دارالعلوم دیوبند کے جواں سال فاضل، ذی استعداد عالم اور استاذ دارالعلوم دیوبند مولانا فہیم الدین صاحب بجنوری مدظلہ کا تعان حضرت الاستاذ کو اس عظیم اور مبارک سلسلہ کو آگے بڑھانے کے لیے حاصل ہوا اور اس مبارک کام میں پیش رفت ہوئی۔ ترتیب وتسوید اور مراجعت کا کام مولانا فہیم الدین صاحب مدظلہ کرتے اور حضرت الاستاذ اس پر گہری نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد اصلاح کرتے تھے، اس طرح تقریباً دس عظیم جلدیں ایضاح البخاری کی مرتب ہوکر شائع ہوچکی ہیں۔

امید ہے کہ حضرت والا کے معاون اور شریک کار مولانا فہیم الدین صاحب بجنوری اس سلسلہ کو مزیدتیزی سے آگے بڑھاکر پایہٴ تکمیل تک پہنچائیں گے،آج ایضاح البخاری حضرت الاستاذ نوراللہ مرقدہ کی حیاتِ جمیلہ کا امت مسلمہ کے لیے عظیم عطیہ اور لازوال کارنامہ ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کارنامہ کو تاقیامت زندہ وتابندہ رکھے اور امتِ مسلمہ کو زیادہ سے زیادہ استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔

اوصاف حمیدہ

آپ کا اہم وصف مردم سازی اور کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی تھا، کتنے ہی اہلِ علم کو آپ نے اپنے ساتھ کام میں لگاکر کامیاب مصنف بنادیا، زندگی کے آخری مراحل میں متعدد علماء واساتذہ دارالعلوم آپ کی نگرانی میں اہم تصنیفی اور تحقیقی کام میں مصروف تھے۔ مولانا عارف جمیل صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند کو ”کشاف اصطلاحات الفنون“ کی تحقیق وتعلیق میں مصروف کردیا تھا۔ مولانا فہیم الدین صاحب بجنوری ”ایضاح البخاری“ کی ترتیب میں معاون اور شریک کار تھے۔ مولانا اشتیاق احمد صاحب قاسمی ادبی کاموں میں آپ کے معاون رہتے تھے؛ چنانچہ ”کلیات کاشف“ ماضی قریب میں مولانا اشتیاق احمد قاسمی دربھنگوی کی تحقیق وتعلیق کے بعد حضرت والا نے شائع فرمائی جو حضرت مولانا محمد عثمان کاشف الہاشمی صاحب تفسیر ”ہدایت القرآن“ کا منظوم کلام ہے۔ اس کے علاوہ بھی متعدد علماء کرام کو مختلف کاموں میں لگارکھاتھاکوئی عالم یا مدرس دیوبند سے باہر کے آتے اور اپنا کوئی کام پیش کرتے تو اس کو دیکھ کر انتہائی مسرت کا اظہار کرتے تھے، اصلاح طلب امور کی جانب متوجہ فرماتے اور وقیع کلمات میں تقریظ لکھ کو حوصلہ افزائی فرماتے اور حوصلہ افزاء دعاؤں کے ساتھ رخصت فرماتے تھے جس سے آنے والا شاداں وفرحاں واپس لوٹتا جس کا مشاہدہ کرنے والے ہزاروں کی تعداد میں آج بھی موجود ہیں۔ عصر کے بعد آپ کی مجلس ہوتی جس میں اساتذہٴ دارالعلوم کے علاوہ دیگر مدارس کے علماء کرام دیوبند سے باہر کے مہمان اہلِ علم، طلبہٴ عزیز اور ذمہ دارانِ مدارس شرکت فرماتے اور پیچیدہ مسائل، علمی اشکالات اس مجلس میں رکھے جاتے۔ حاضرین مجلس اس پر سنجیدہ تبصرہ فرماتے اور پھراس کا حل فرماتے اور سبھی حاضرین کی حضرت والا کی جانب سے چائے کی ضیافت بلاناغہ جاری رہتی اور ضیافت کو اپنے لیے سعادت عظمیٰ سمجھتے تھے۔ کتنے ہی غریبوں، یتیموں، بیواؤں کاماہانہ آپ کے یہاں بندھا ہوا تھا جو پابندی کے ساتھ پہنچتا تھا اوراس میں کبھی تخلف نہ ہوتا تھا۔ بارہا ایسا بھی ہوا کہ عید اور دوسرے خوشیوں کے مواقع پر اپنی اولاد کو کپڑے نہ بنائے اور ان کو سمجھادیا؛ مگر غرباء کی امداد واعانت میں ناغہ نہ ہوا۔            ع

خدا بخشے بڑی ہی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

راقم السطور سے حددرجہ محبت فرماتے تھے۔ طالب علمی کے زمانہ میں بندہ کو مضمون نویسی کی جانب متوجہ فرمایا۔ آج جو بھی لکھنے لکھانے کا معمولی شوق ہے یہ حضرت ہی کا مرہون منت ہے۔ طالب علمی کے دور میں بندے نے تقلید کے موضوع پر ایک مضمون بغرض اصلاح لکھ کر دکھایا۔ حضرت والا نے بہت زیادہ حوصلہ افزائی فرمائی اور فوراً ہی حضرت مولانا کفیل احمد صاحب علوی کو آئینہ دارالعلوم میں اشاعت کے لیے دینے کا حکم فرمایا اوراس پر سفارشی کلمات بھی تحریر فرمادیے۔ عالمی اجلاس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم کے موقع پر بندہ کو مقالہ لکھنے کا حکم فرمایا پھر متعدد مراحل میں اس کی اصلاح فرمائی اور طلبہ کی نشست میں اس کو پڑھنے کے لیے منظور فرمایا۔ ہر موقع پر اپنی یا اپنے مکتبہ کی مطبوعہ کتاب ضرور پیش فرماتے تھے اور دیوبند پہنچنے پر ناشتہ یا کھانے کے لیے ضرور مدعو فرماتے۔ نیز آزمائشی حالات آنے پر مکمل رہنمائی فرماتے اور ضروری مشوروں سے نوازتے تھے۔ ۲۲/شعبان ۱۴۰۶ھ کو بندہ کی دورہٴ حدیث شریف سے فراغت کے دو روز بعد میرے والد محترم کا انتقال ہوگیا۔ بندہ نے حضرت والا کو خط لکھا اور ایصالِ ثواب ودعا مغفرت کی درخواست کی۔ اس کے بعد شوال ۱۴۰۶ھ میں دارالافتاء میں داخلہ کی غرض سے دارالعلوم دیوبند حاضری ہوئی تو ملاقات کے بعد بہت زیادہ شفقت کا معاملہ فرمایا اور مزید ارشاد فرمایا کہ تم اپنے والد کے انتقال کا زیادہ احساس نہ کرنا؛ کیوں کہ دنیا سے ہر ایک کو جانا ہے اور ہم کو اپنا والد ہی تصور کرتے رہنا اور جو ضرورت ہو اس کو بلاتکلف بتلانا۔ اس کو پورا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی جائے گی۔ اس کے بعد سے برابر تاحیات حضرت والا کی شفقت پدری اس ناچیز کو حاصل رہی۔ اللہ تعالیٰ حضرت والا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

امراض، وفات، نمازِ جنازہ اور تدفین

حضرت والا کچھ عرصہ سے مختلف امراض میں مبتلا تھے۔ ممبئی میں آنکھ کا آپریشن بھی ہوا۔ دل کا عارضہ بھی لاحق تھا، شوگر بھی کم وبیش ہوتی رہتی تھی، اس کے علاوہ بھی متعدد امراض لاحق تھے۔ علاج بھی برابر جاری رہتا تھا اور علاج کے ساتھ ساتھ تمام معمولات درس وتدریس، تصنیف وتالیف، عصر کے بعد کی مجلس، مہمانوں سے ملاقات، واردین وصادرین کے مسائل کو سننا اور ان کو حل کرنا، بدستور جاری تھے، گذشتہ شوال میں زیادہ بیمار ہوئے، عیدالاضحی تک درس میں حاضری بھی برائے نام رہی؛ لیکن محرم الحرام سے درس حدیث اور دوسرے اسباق حسب معمول جاری رہے اور مقررہ نصاب ماہ رجب تک مکمل کرایا۔ سالانہ امتحانات کے موقع پرتمام ایام میں حاضری ہوتی رہی؛ مگر وقت موعود آچکا تھا۔ بالآخر سالانہ امتحانات کی تعطیل میں جمعہ کا دن گزار کر ہفتہ کی رات میں تہجد کی نماز سے فراغت کے بعد صبحِ صادق کے وقت تقریباً چار بجے موٴرخہ ۲۳/شعبان ۱۴۳۸ھ مطابق ۲۰/مئی ۲۰۱۷/ کو داعیِ اجل کو لبیک کہا اور اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔ انا للہِ انا الیہ راجعون۔ کئی روز سے حضرت والا کی برابر یاد آرہی تھی۔ فون کرنا چاہتا تھا؛ مگر نہ کرسکا۔ ہفتہ کی صبح دیوبند حاضر ہوکر ملاقات کا ارادہ تھا، صبح کو فون کے ذریعہ معلوم ہوا کہ حضرت دارالبقاء کی جانب رحلت فرماگئے۔ اب ملاقات ممکن نہیں ہے، صرف جسدِ خاکی کی زیارت ہی ہوسکے گی۔ جنازہ میں شرکت کا نظام بنایا اور جامع مسجد امروہہ کے اساتذہٴ کرام کے ساتھ دیوبند حاضری ہوئی۔ جسد خاکی کی زیارت کی اور تقریباً ۳۵/سال کی یادیں دماغ میں گھومنے لگیں۔ بعد نماز ظہر حضرت الاستاذ امیرالہند مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصورپوری دامت برکاتہم استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند وصدر جمعیة علماء ہند کی امامت میں نمازِ جنازہ ہوئی اور ”قبرستانِ قاسمی“ میں تدفین عمل میں آئی، اس کے بعد غم ناک آنکھوں، غم زدہ دل کے ساتھ امروہہ واپسی ہوئی۔

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے

ا و لا د  و ا حفاد  اور پس  ما ندگان

حضرت والا کی اہلیہ محترمہ (امی جان) کا چند سال قبل مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا تھا۔ اولاد میں تین صاحب زادگان: مولانا محمد سفیان صاحب قاسمی، مولانا قاری محمد عدنان صاحب قاسمی، مولانا مفتی محمد سعدان صاحب قاسمی ہیں۔ اوّل الذکر کاروبار کرتے ہیں، ثانی الذکر امریکہ میں رہتے ہیں، موصوف نے اپنے والد کی بہت زیادہ خدمت کی ہے۔ ثالث الذکر معہد الانور میں مدرس ہیں اور دورہٴ حدیث تک کی کتابیں پڑھاتے ہیں اور ماشاء اللہ تمام ہی فرزندان نیک صالح، خوش اخلاق اور ملنسار ہیں۔ پوری زندگی اپنے والد مرحوم کی اطاعت فرماں برداری میں گزاری۔ اس کے علاوہ آپ کے متعلقین، رشتہ دار، اعزہ، اقرباء، تلامذہ بھی آپ کے پس ماندگان میں شامل ہیں۔ خاص طور سے برادرمحترم مولانا محمد سلمان صاحب بجنوری استاذ دارالعلوم دیوبند ان کے فرزندانِ اور اہل خانہ بھی آپ کے پس ماندگان میں شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ تمام ہی پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور حضرت والا کو اعلیٰ علیین میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ قبرمبارک کو نور سے منور فرمائے اور مادرِعلمی دارالعلوم دیوبند کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔ (آمین)

—————————————————————

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ8-9، جلد:101 ‏،ذی قعدہ-محرم 1438 ہجری مطابق اگست-ستمبر 2017ء

Related Posts