فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ ہمدردی  : ایک دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ

(پریس نوٹ)

فلسطین، بالخصوص غزہ کی سرزمین اس وقت تاریخ کے بدترین ظلم و ستم سے گزر رہی ہے۔ ہر روز معصوم بچوں، عورتوں اور بے قصور شہریوں پر بمباری ہو رہی ہے۔ پناہ گاہیں، اسپتال، تعلیمی ادارے اور عبادت گاہیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ غزہ برسوں سے محاصرے میں ہے، اور حالیہ مہینوں میں یہ محاصرہ سنگین ترین انسانی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔ نہ صرف زمین، سمندر اور فضا سے اس کا گھیراؤ کیا گیا ہے، بلکہ اب کھانے، پینے کے پانی، ایندھن، دوا، اور طبی امداد تک کو روک دیا گیا ہے۔ لاکھوں انسان بھوک، پیاس، بیماری، خوف اور تباہی کے عالم میں زندگی اور موت کی کشمکش سے گزر رہے ہیں۔یہ صرف جنگ نہیں بلکہ ایک کھلی اور منظم نسل کشی ہے، جو اکیسویں صدی کی ترقی یافتہ اور مہذب ترین دنیا کی آنکھوں کے سامنے جاری ہے اور جس کا مقصد ایک مظلوم قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا ہے۔ صہیونی ریاست نے ظلم و بربریت کی وہ حدیں پار کر لی ہیں جن پر تاریخ بھی شرمندہ ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے بے بس یا خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

ایسے نازک اور الم ناک حالات میں ہم ہندوستانی مسلمانوں پر بھی ایک اہم دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے حق میں دعاؤں کا اہتمام کریں،  ان کی تکلیف کو محسوس کریں، ان کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کریں۔  یہ ہمارا اخلاقی تقاضہ ہے کہ ہم ظلم و ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں، اور تمام تر دستیاب وسائل اور قانونی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وسعت بھر کوشش کا پابند بنایا ہے: "لا یکلف الله نفساً إلا وسعها"۔اگر آج ہم نے اپنے ایمان اور انسانیت کے تقاضوں کی بنیاد پر ان کے ساتھ ہمدردی نہیں کی اور ان کی تکلیف میں شریک نہیں ہوئے تو کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور کیا جواب دیں گے؟

ہم سب کو اس موقع پر نہ صرف فلسطین کے مظلوموں کے لیے فکر مند ہونا چاہیے، بلکہ اپنی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کی طرف سچے دل سے رجوع کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے عقائد، اعمال، اخلاق، اور اجتماعی رویّوں کا جائزہ لیں۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ انہی کے ساتھ ہوتی ہے جو تقویٰ، صداقت اور اخلاص کے راستے پر ہوتے ہیں۔ ہمیں توبہ و استغفار، نمازوں کی پابندی، قرآن سے تعلق، مظلوموں سے ہمدردی، اور امت کے اتحاد کی کوششوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ آزمائش کے ان لمحات میں امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ ایک جسم بن کر سوچے، دکھ بانٹے، اور ظلم کے خلاف آواز بنے۔ یہی وہ راہ ہے جو اللہ کی رضا، مظلوموں کی نصرت، اور ظالموں کی رسوائی کا ذریعہ بنے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق دے۔

ہمیں یقین ہے کہ ظلم کی رات جتنی بھی طویل ہو، صبحِ انصاف ضرور طلوع ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فلسطین کے مظلوموں کو صبر، استقامت اور کامیابی عطا فرمائے، شہداء کے درجات بلند فرمائے، اور امت مسلمہ کو اتحاد، شعور اور عمل کی دولت عطا فرمائے۔آمین!

من جانب: دفتر اہتمام

Related Posts