مدارس اسلامیہ کے تحفظ کے لیے خوف زدہ ہونے کے بجائے دعا، اصلاح اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں: حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی

حضرت مولانا سید ارشد مدنی کا کلیدی خطاب: تعلیمی و تربیتی نظام کی بہتری، تحفظِ عقائد اور اصلاحِ معاشرہ پر زور
دیوبند، 27 /اکتوبر:

"مدارس اسلامیہ کو درپیش موجودہ تشویشناک حالات سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے دعاؤں کا اہتمام کیا جائے، اپنے حالات درست کیے جائیں اور تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ مدارس کے تحفظ کے لیے جاری جدوجہد میں حالات کی سنگینی کو سمجھنا ضروری ہے، تاہم اس سے مرعوب ہونے کے بجائے حکمت، اصلاح اور درست لائحۂ عمل کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔” ان خیالات کا اظہار حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی دامت برکاتہم مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند و صدر رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ نے آج جامع رشید، دارالعلوم دیوبند میں منعقدہ کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کیا۔

کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کا اجلاس 15 جمادی الاولیٰ 1448ھ، مطابق 27 /اکتوبر 2026ء، بروز منگل صبح 9 بجے جامع رشید، دارالعلوم دیوبند میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی نظامت حضرت مولانا شوکت علی قاسمی بستوی صاحب جنرل سکریٹری رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند نے انجام دی۔

اجلاس کا آغاز جناب مولانا قاری عبد الرؤوف صاحب استاذ تجوید دارالعلوم دیوبند کی تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا، جس کے بعد دو طلبہ نے ترانۂ دارالعلوم کے منتخب اشعار پیش کیے۔

صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی دامت برکاتہم نے اپنے صدارتی خطاب میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے دستور، بنیادی مقاصد، ضرورت اور موجودہ تقاضوں پر تمہیدی گفتگو کی۔ انہوں نے اربابِ مدارس کو نظامِ تعلیم کی بہتری کی طرف متوجہ کرتے ہوئے نصابِ تعلیم کے معیار، نصاب کی تکمیل اور تدریب المعلمین پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت واضح کی۔ انہوں نے طلبہ کی تعلیمی و اخلاقی تربیت، دارالاقامہ کے نظام کو بہتر بنانے اور اساتذہ و ذمہ دارانِ مدارس کو صاحب نسبت بزرگوں سے اصلاحی تعلق کو قائم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

اپنے خطاب میں حضرت والا نے مدارس کے داخلی نظام، اصلاحِ معاشرہ، دفاعِ اسلام، یونیفارم سول کوڈ اور وندے ماترم جیسے اہم مسائل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اکابرِ امت نے اپنے مسائل کے حل کے لیے ابتدا ہی سے سڑکوں پر آنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کیا ہے، اس لیے موجودہ حالات میں بھی حکمت، قانونی طریقۂ کار اور ضروری احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند نے اپنے کلیدی خطاب بعنوان ’’تحفظ مدارس کو درپیش خطرات اور حل‘‘ میں مدارس کے دینی و تعلیمی کردار، نئی نسل کی دینی تربیت، گھر کے ماحول کی اصلاح اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلقات مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند ایک خالص مذہبی تعلیمی ادارہ ہے، جس کا بنیادی مقصد قرآن و حدیث کی تعلیم، معروف کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا اور منکرات سے اجتناب کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تاکید کی کہ مدارس کے فضلاء جہاں بھی جائیں، مدارس اسلامیہ سے اپنا تعلق برقرار رکھیں، دینی تعلیم کے فروغ کے لیے کام کریں اور ضرورت کے مطابق نئے مدارس قائم کرکے نئی نسل کو دینی تعلیمات سے آراستہ کریں۔

حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم نے کہا کہ بچوں کی دینی تربیت صرف مدارس کی ذمہ داری نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر شخص کو اپنے متعلقین کا ذمہ دار بنایا ہے۔ اس لیے والدین کو اپنے گھروں کو بھی تربیت کا مرکز بنانا چاہیے۔ انہوں نے اکابرِ دیوبند کے اصلاحی طریقے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کتابیں پڑھنے کے بعد بزرگوں کی صحبت میں رہ کر اصلاح و تربیت حاصل کرتے تھے، پھر دین کی خدمت کے لیے مختلف علاقوں میں پھیل جاتے تھے۔ انہوں نے مدارس کے تعلیمی معیار، طلبہ کی حاضری، امتحانات کی تیاری اور انتظامی امور  کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا اور مدارس کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ اپنے طلبہ کو محنت کے ساتھ تیار کرکے دارالعلوم دیوبند کے داخلہ امتحانات میں شرکت کے لیے بھیجیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مدارس کے ذمہ داران معاشرے کے مختلف طبقات سے قریبی روابط قائم کریں، برادران وطن کو بھی اپنے پروگراموں میں مدعو کریں، انہیں اپنے قریب بٹھائیں اور خوش گوار تعلقات کے ذریعے غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مدارس اسلامیہ کی خدمات اور ان کے حقیقی مقاصد کو مؤثر انداز میں متعارف کرانے سے معاشرے میں باہمی اعتماد کو فروغ ملے گا۔

اپنے کلیدی خطاب میں حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم نے دارالعلوم دیوبند کے قیام کے تاریخی پس منظر اور اس کے بنیادی مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اکابرِ دارالعلوم نے تعلیمی مقاصد کے ساتھ ملک کو غلامی سے آزاد کرانے اور یہاں کے باشندوں کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلانے کا جذبہ بھی سامنے رکھا تھا۔ آزادی کے بعد ادارے کی توجہ خالص مذہبی تعلیم پر مرکوز رہی، جس کا مقصد قرآن و حدیث کی تعلیم، دینی احکام پر عمل اور معاشرے میں معروف و منکر کے حوالے سے صحیح شعور پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی مدارس کے فارغین کو یہی تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ جہاں رہیں، مدارس اسلامیہ سے اپنا تعلق قائم رکھیں اور دینی تعلیم کے فروغ میں حصہ لیں۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اکابر نے مدارس کے قیام اور دینی تعلیم کے فروغ کی جو بنیاد رکھی تھی، اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں مدارس اسلامیہ کا ایک وسیع نظام قائم ہوا ہے۔

حضرت مولانا مدنی نے نئی نسل کے ایمان و عقائد کی حفاظت اور دینی ماحول کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے مخلوط تعلیم اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دینی و اخلاقی مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے والدین اور اربابِ مدارس کو متوجہ کیا کہ وہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی دینی تربیت کا بھی خصوصی اہتمام کریں۔

انہوں نے طلبہ کی حاضری اور امتحانات کی تیاری کے حوالے سے مدارس کے ذمہ داران کی کوششوں کو اہم قرار دیا اور کہا کہ دارالعلوم دیوبند میں کامیابی کے لیے طلبہ کو سال بھر محنت کے ساتھ تیار کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ امتحان میں پورا پرچہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے اساتذہ اور منتظمین سے اپیل کی کہ وہ طلبہ کو وقت کی پابندی، حاضری اور مطالعے کا عادی بنائیں۔

حضرت مولانا مدنی دامت برکاتہم نے اکابر کے سماجی رویے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی مثال پیش کی اور کہا کہ مدارس کے ذمہ داران کو بھی معاشرے کے لوگوں سے تعلقات استوار کرنے، انہیں اپنی تقریبات میں شریک کرنے اور باہمی میل جول بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس طرزِ عمل سے غلط فہمیوں کے ازالے اور دینی اداروں کے تعارف میں مدد ملے گی۔

حضرت مولانا شوکت علی قاسمی بستوی صاحب نے سابقہ اجلاسِ مجلس عمومی منعقدہ 1444ھ کی کارروائی پڑھ کر سنائی، جس کے بعد رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کی جنرل سکریٹری رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں صوبائی شاخوں کے تحت منعقدہ مجلسِ عاملہ اور مجلسِ عمومی کے اجلاسوں، تدریب المعلمین کے پروگراموں، اجتماعی امتحانات، معائنۂ مدارس، تردیدِ فرقِ باطلہ، اصلاحِ معاشرہ کے اجلاسوں اور کامیاب طلبہ کے اعزاز میں منعقدہ انعامی تقریبات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔

اجلاس میں مجلسِ عاملہ اور مجلسِ عمومی کے ارکان کی توسیع کا اعلان کیا گیا، جب کہ مرکزی دفتر رابطہ کے دستورالعمل کی بعض دفعات میں اضافے کی منظوری بھی دی گئی۔

اجلاس کے ناظم حضرت مولانا شوکت علی صاحب بستوی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے اجلاس کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد اجلاس میں مندجہ ذیل چھ امور سے متعلق تجاویز پیش کی گئیں، جنھیں حاضرین نے اتفاق رائے سے منظور کیا۔

  1. مدارس کے نظامِ تعلیم و تربیت کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ۔
  2. فرقِ باطلہ کی تردید اور تحفظِ عقائد کی اہمیت۔
  3. مدارس کے داخلی نظام کو مستحکم بنانا۔
  4. رابطہ مدارس اسلامیہ کی اہمیت اجاگر کرنا اور صوبائی شاخوں کو فعال بنانا۔
  5. مکاتبِ دینیہ کے قیام اور ان کے فروغ پر زور۔
  6. تعزیتی تجویز۔

اس کے بعد متعدد حضرات نے ان تجاویز پر اظہارِ خیال کیا اور ان کی تائید کی۔اجلاس میں صوبہ جات اترپردیش ، اتراکھنڈ، دہلی، راجستھان، ہریانہ ، پنجاب، ہماچل پردیش، جموں وکشمیر، بہار، جھارکھنڈ، اڈیشا، مغربی بنگال، آسام، میگھالیہ، منی پور، چھتیس گڈھ، مدھیہ پردیش ، گجرات ، مہاراشٹر ، آندھرا پردیش، تلنگانہ، تمل ناڈر، کیرالا اور نیپال وغیرہ صوبوں کے تقریباً آٹھ ہزار مدارس اسلامیہ کے نمائندگان و علمائے کرام  اور مندوبین حضرات نے شرکت کی۔

اس سے قبل رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس اس سے قبل 14 جمادی الاولیٰ 1448ھ، مطابق 26 اکتوبر 2026ء، بروز پیر مہمان خانہ دارالعلوم دیوبند میں منعقد ہوا تھا جس میں مدارس اسلامیہ کے نظام و تعلیم و تربیت، مدارس اسلامیہ کے خلاف منفی پالیسی کا جائزہ اور حل ، فرق باطلہ کی تردید و تعاقب ، مدارس اسلامیہ کے داخلی انتظام کے استحکام اور صوبائی شاخوں سے متعلق امور پر اہم فیصلے کیے گئے۔

مجلسِ عاملہ اور مجلسِ عمومی میں ارکانِ شوریٰ، اساتذۂ دارالعلوم دیوبند، اہم علماء، صوبائی شاخوں کے نمائندگان، مندوبین اور مدعوئینِ خصوصی نے شرکت کی۔ مختصراظہارِخیال کرنے والوں میں حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب میر قاسمی جموں و کشمیر،حضرت مولانا مفتی محمد اسماعیل صاحب قاسمی مالیگاؤں، حضرت مولانا حسن محمود صاحب کھیروی، حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی، حضرت مولانا مفتی سید محمد صالح صاحب سہارن پور، حضرت مولانا مفتی محمد راشد صاحب اعظمی، حضرت مولانا محمد سلمان صاحب بجنوری، جناب مولانا صدیق اللہ چودھری صاحب اور جناب قاری شوکت علی صاحب ویٹ ، جناب مولانا اشہد رشیدی صاحب مرادآباد، جناب مولانا عبد القوی صاحب حیدرآباد ، جناب مولانا علی حسن صاحب شمالی ہریانہ، جناب مولانا محمد زبیر صاحب قاسمی جنوبی ہریانہ، جناب مولانا مفتی محمد فاروق صاحب اڈیشا، جناب مولانا شوکت علی قاسمی المدنی نیپال ،  جناب مولانا محمد ممتاز صاحب شملہ، جناب مولانا محمد ابراہیم صاحب کیرالا، جناب مولانا مرغوب الرحمن صاحب پٹنہ، جناب مولانا محمد اسحاق صاحب جھارکھنڈ، جناب مولانا محمد احمد خان صاحب بھوپال، مولانا مفتی محمد اقبال صاحب کان پور، جناب مولانا حافظ عبد القدوس ہادی صاحب کان پور، جناب مولانا مفتی ذکاوت حسین صاحب قاسمی دہلی، جناب مولانا شمس الدین بجلی صاحب قاسمی بنگلور، جناب مولانا محمد نجم الحق صاحب مغربی بنگال، مجاہد الاسلام قاسمی صاحب آسام ، جناب مفتی طیب الرحمن صاحب تریپورہ ، جناب مولانا محمد ارشد صاحب پوکرن، جناب مولانا عبد الکریم صاحب آندھراپردیش اور مولانا محمد جمیل صاحب مظفرنگر ، جناب مولانا محمد شمشاد صاحب رحمانی نمائندہ جناب مولانا محمد سفیان صاحب قاسمی مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند، جناب مولانا محمد شریف صاحب مہتمم دارالعلوم زکریا دیوبند، جناب مولانا ظہیر انوار صاحب بستی، جناب مولانا مفتی محمد محسن صاحب قاسمی اورنگ آباد  اور  جناب مولانا عبد المالک صاحب مغیثی وغیرہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔

اجلاس میں حضرت مولانا ملک محمد ابراہیم صاحب میل وشارم، حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب، حضرت مولانا محمد عاقل صاحب گڈھی دولت، حضرت مولانا مفتی محمد خلیل صاحب قاسمی پنجاب ارکان شوریٰ دارالعلوم  دیوبند،حضرت مولانا عبدالخالق صاحب مدراسی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا مفتی محمد امین صاحب پالنپوری، حضرت مولانا مجیب اللہ صاحب گونڈوی، حضرت مولانا محمد نسیم صاحب بارہ بنکوی،  حضرت مولانا حسین احمد صاحب ہریدواری اساتذہٴ دارالعلوم دیوبند ، جناب مولانا مفتی اشفاق احمد صاحب سرائے میر، جناب مولانا محمد اسجد صاحب قاسمی مرادآباد،جناب مفتی عبدالرحیم صاحب آندھرا پردیش، جناب مولانا مفتی ریاست علی صاحب اتراکھنڈ، جناب مولانا عبدالقادر صاحب آسام، جناب مولانا منظور عالم صاحب ہگلی،جناب مفتی سراج احمدصاحب منی پور، جناب مولانا مفتی صلاح الدین صاحب تمل ناڈو ، جناب مولانا سعید احمد حبیب صاحب پونچھ ، جناب مولانا عبدالقدیم صاحب ہاپوڑ، جناب مولانا شوکت علی صاحب جھن جھنوں،جناب مفتی محمد امتیاز ولنوی صاحب گجرات،  جناب قاری محمد یوسف بسم اللہ صاحب گجرات اورجناب مولانا عنایت اللہ صاحب جموں وغیرہ حضرات شریک رہے۔دیگر شرکاء میں جناب مولانا ضیاء اللہ صاحب بھوپال،جناب مولانا عبداللہ خالدصاحب قاسمی سہارنپور،جناب مفتی خالد انور صاحب پورنوی اورجناب مولانا محمد ہارون صاحب مدنی نیپال وغیرہ کے اسماء شامل ہیں۔

مجلسِ عاملہ اور مجلسِ عمومی دونوں میں نظامت کے فرائض حضرت مولانا شوکت علی قاسمی بستوی صاحب جنرل سکریٹری رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند نے انجام دیے۔ اجلاس صبح 9 بجے شروع ہوا اور دوپہر ایک بجے صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی دامت برکاتہم کی رقت آمیز دعا پر اختتام پذیر ہوا۔

دعا سے قبل صدر اجلاس نے تمام مہمانانِ گرامی اور مندوبین کا دوبارہ شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے انتظامی کمیٹیوں کے کنوینر حضرات، ارکان و کارکنان، رضاکار طلبہ، سرکاری انتظامیہ اور میڈیا کے نمائندگان کے تعاون پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔

Related Posts